ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 483 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 483

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۸۳ جلد اول کئی سالوں کی محنت کو ملیا میٹ کر دیتا ہے اور جو کچھ گھر میں پاتا ہے سب کا سب لے جاتا ہے۔ ایسی قبیح بدی کی اصل جڑ کیا ہے؟ اخلاقی قوت کا نہ ہونا ۔ اگر رحم ہوتا اور وہ یہ سمجھ سکتا کہ بچے بھوک سے بلبلا ئیں گے۔ جن کی چیخوں سے دشمن کا بھی کلیجہ لرزتا ہے اور یہ معلوم کر کے کہ رات سے بھو کے ہیں اور کھانے کو ایک سوکھا ٹکڑا بھی نہیں ملا تو پتا پانی ہو جاتا ہے ۔ اب اگر ان حالتوں کو محسوس کرتا اور اخلاقی حالت سے اندھا نہ ہوتا تو کیوں چوری کرتا ۔ آئے دن اخبارات میں دردناک موتوں کی خبریں پڑھنے میں آتی ہیں کہ فلاں بچہ زیور کے لالچ سے مارا گیا۔ فلاں جگہ کسی عورت کو قتل کر ڈالا۔ میں خود ایک مرتبہ اسیسر ہو کر گیا تھا۔ ایک شخص نے ۱۲ (بارہ آنے) یاعہ ٫۴( سوار و پیہ ) میں ایک بچہ کا خون کیا تھا۔ اب سوچ کر دیکھو کہ اگر اخلاقی حالت درست ہو تو ایسی مصیبتیں کیوں آئیں؟ ممکن ہے کہ اپنے جیسے انسان پر مصیبت آئے اور یہ محسوس نہ کرے؟ يَأْكُلُونَ كَمَا تَأْكُلُ الْأَنْعَامُ (محمد : ۱۳) چارپایوں کی طرح چار پایوں جیسے خصائل کھاتے ہیں۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ اول ۔ چار پا یہ کیفیت اور کمیت میں فرق نہیں کر سکتا اور جو کچھ آگے آتا ہے اور جس قدر آتا ہے کھاتا ہے۔ جیسے کتا اس قدر کھاتا ہے کہ آخر قے کرتا ہے۔ دوسرا ۔ یہ کہ انعام حلال اور حرام میں تمیز نہیں کرتے۔ ایک بیل کبھی یہ تمیز نہیں کرتا کہ یہ ہمسایہ کا کھیت ہے اس میں نہ جاؤں ۔ ایسا ہی ہر ایک امر جو کھانے کے لحاظ سے ہو نہیں کرتا۔ کتے کو ناپاکی ، پاکی کے متعلق کوئی لحاظ نہیں اور پھر چار پا یہ کو اعتدال نہیں۔ یہ لوگ جو اخلاقی اصولوں کو توڑتے ہیں اور پروا نہیں کرتے کہ گویا انسان نہیں۔ پاک پلید کا تو یہ حال عرب میں مردے کتے کھا لیتے تھے۔ اب تک اکثر ممالک میں یہ حال ہے کہ چوہوں اور کتوں اور بلیوں کو بڑے لذیذ کھانے سمجھ کر کھایا جاتا ہے۔ چوہڑے، چمار، مردار خوار قو میں یہاں بھی موجود ہیں۔ پھر یتیموں کا مال کھانے میں کوئی تردد و تامل نہیں۔ جیسے یتیم کا گھاس گائے کے سامنے رکھ دیا جائے بلاتر ڈ دکھالے گی۔ ایسا ہی ان لوگوں کا حال ہے۔ یہی معنے ہیں وَالنَّارُ مَثْوًى لَهُمُ (محمد: ۱۳) ان کا ٹھکانا دوزخ