ملفوظات (جلد 1) — Page 463
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۳ جلد اول وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی عبادت بھی تیری کرتے ہیں اور استمداد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل حق استمداد کا اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہے۔ کسی انسان، حیوان، چرند، پرند غرضیکہ کسی مخلوق کے لئے نہ آسمان پر نہ زمین پر یہ حق نہیں ہے مگر ہاں دوسرے درجہ پر ظلی طور سے یہ حق اہل اللہ اور مردانِ خدا کو دیا گیا ہے۔ ہم کو نہیں چاہیے کہ کوئی بات اپنی طرف سے بنالیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فرمودہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے اندر اندر رہنا چاہیے اسی کا نام صراط مستقیم ہے اور یہ امر لا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ سے بھی بخوبی سمجھ میں آسکتا ہے۔ اس کے پہلے حصے سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا محبوب ، معبود اور مطلوب اللہ تعالیٰ ہی ہونا چاہیے۔ رسالت محمدیہ کی حقیقت اور حصے سے رسالت محمدی صل للہ علیہ کی اور دوسرے حصے سے رسالت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقت کا اظہار ہے۔ یہ بات یا درکھنی چاہیے کہ رسالت میں ایک امر ظاہر ہوتا ہے اور ایک مخفی ہوتا ہے ۔ مثلاً لا اله الا اللہ ایک کلمہ ہے جسے رسالت مآب نے بایں الفاظ لوگوں کو پہنچا دیا ہے۔ لوگ مانیں یا نہ مانیں۔ یعنی رسالت کا کام صرف پہنچاد بنا تھا مگر رسالت کے یہ ظاہری معنی ہیں ۔ ہم جب اور زیادہ غور کر کے بطون کی طرف جاتے ہیں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت جو لا اله الا اللہ کے ساتھ بطور ایک جز غیر منفک کے شامل ہوتی ہے۔ یہ صورت ابلاغ تک ہی محدود نہیں بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوت قدسیہ کے زور سے اس تبلیغ کو بااثر بنانے میں لا نظیر نمونہ دکھلایا ہے۔ نبی کی مادرانه عطوفت اور قرآن کریم سے یہ بھی پتا لگتا ہے کہ آپ کوکس قدر سوزش اور گدازش لگی ہوئی تھی۔ چنانچہ فرمایا لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ الَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء: (۴) یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کر دے گا اس فکر میں کہ یہ مومن کیوں نہیں بنتے ۔ یہ پکی بات ہے کہ ہر نبی صرف لفظ لے کر نہیں آتا بلکہ اپنے اندر وہ ایک درد اور سوز و گداز بھی رکھتا ہے جو اپنی قوم کی اصلاح کے لئے ہوتا ہے اور یہ درد اور اضطراب کسی بناوٹ سے نہیں ہوتا بلکہ فطرتاً اضطراری طور پر اس سے صادر ہوتا ہے جیسے ایک ماں اپنے بچے کی پرورش میں مصروف