ملفوظات (جلد 1) — Page 452
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۵۲ جلد اول کرتا رہا اور دوسروں سے بھی دعا کراتا رہا اور کہتا رہا کہ اے خدا! تیرے آگے کوئی چیز ان ہونی نہیں اگر ہو سکے تو یہ پیالہ ٹل جائے مگر وہ دعا قبول ہی نہیں ہوتی ۔ اگر کوئی کہے کہ وہ کفارہ ہونے کے واسطے آئے تھے اس لئے یہ دعا قبول نہیں ہوئی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ جب ان کو معلوم تھا کہ وہ کفارہ کے لئے آئے ہیں پھر اس قدر بزدلی کے کیا معنی ہیں؟ اگر ایک افسر طاعون کی ڈیوٹی پر بھیجا جائے اور وہ کہہ دے کہ یہاں خطرہ کا محل ہے مجھے فلاں جگہ بھیج دو تو کیا وہ احمق نہ سمجھا جائے گا۔ جبکہ مسیح کو معلوم تھا کہ وہ صرف کفارہ ہی ہونے کو بھیجے گئے ہیں تو اس قدر لمبی دعاؤں کی کیا ضرورت تھی ؟ ابھی کیا کفارہ زیر تجویز امر تھا یا ایک مقرر شدہ امر تھا۔ غرض ایک داغ ہو۔ دو داغ ہوں ۔ جس پر بے شمار داغ ہوں کیا وہ خدا ہو سکتا ہے؟ خدا تو کیا وہ تو عظیم الشان انسان بھی نہیں ہو سکتا۔ یہودی بے چارے خود ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّه کے مصداق ۔ ان کی وہ حالت تھی کہ ہوریت صورت ہیں حالش مپرس ۔ دنیا پرستی کے سوا کچھ جانتے ہی نہیں ۔ ہمارے یہاں ایک اسرائیلی محمد سلمان مسلمان ہوا ہے اس سے پوچھو۔ یہودیوں نے کھانے پینے کے سوا اور کوئی مقصود ہی نہیں رکھا۔ خدا کی قدرت ہے جب ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کی حالت آئی تو وہ افعال بھی آگئے جو ذلت کے جالب اور ذلت کے نتائج تھے۔ اگر وہ تائب ہو جاتے تو پھر ضربت کیوں کر صادق آتا۔ اس پیش گوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شامت اعمال ان کے گلے کا ہار ہی رہے گی ۔ مرد صالح کے ساتھ ذلت اور بے رزقی نہیں ہوتی ۔ خدا کا نام عزیز ہے۔ خدا میں ہو کر زندگی بسر کرنے والا ذلیل ہو نہیں سکتا۔ یہودیوں کی زندگی اگر نا پاکیوں کا مجموعہ نہ تھی تو پھر ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کی مار ان پر کیوں کر پڑتی ؟ اس پر خوب غور کرو۔ اس کے اندر یہ مخفی اسرار ہیں اور پتا ملتا ہے کہ یہودی قوم کے اطوار بگڑ جاویں گے ۔ اب ان مذاہب پر نظر ڈال کر صدقِ دل سے بتاؤ کہ کیا اسلام کے سوا کوئی اور طریق ہے جس سے تمہارے دل ٹھنڈے ہو سکتے ہیں ۔ کیا ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کے مصداق یہودیوں سے کوئی روشنی اور نور پا سکتے ہو؟ کیا ایسے عیسائی جو ایک عاجز ، کمزور، ناتواں، نامراد انسان کو خدا بناتے ہیں کوئی