ملفوظات (جلد 1) — Page 38
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸ جلد اول بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرُ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٌّ إِلَّا أَنْ يَقُولُوا رَبُّنَا الله (الحج: ۴۱،۴۰) جن لوگوں کے ساتھ لڑائیاں خواہ مخواہ کی گئیں اور گھروں سے ناحق نکالے گئے صرف اس لیے کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے سو یہ ضرورت تھی کہ تلوار اٹھائی گئی۔ والا حضرت کبھی تلوار نہ اٹھاتے ۔ ہاں ہمارے زمانہ میں ہمارے برخلاف قلم اٹھائی گئی ، قلم سے ہم کو اذیت دی گئی اور سخت ستایا گیا ، ان کے مقابل قلم ہی ہما را حربہ لم ہی ہما را حربہ بھی ہے۔ جماعت کے لئے نصیحت میں بار بار کہ چکا ہوں کہ جس قدر کوئی قرب حاصل کرتا ہے اسی قدر مؤاخذہ کے قابل ہے۔ اہل بیت زیادہ قابل مواخذہ تھے ۔ وہ لوگ جو دور ہیں وہ قابل مؤاخذہ نہیں لیکن تم ہو۔ اگر تم میں ان پر کوئی ایمانی زیادتی نہیں تو یہ تم میں اور ان میں کیا فرق ہوا ؟ تم ہزاروں کے زیر نظر ہو ۔ وہ گورنمنٹ کے جاسوسوں کی طرح تمہاری حرکات وسکنات کو دیکھ رہے ہیں۔ وہ سچے ہیں جب مسیح کے ساتھی صحابہؓ کے ہم دوش ہونے لگے ہیں تو کیا آپ ویسے ہیں ؟ جب آپ ویسے نہیں تو آپ قابل گرفت ہیں ۔ گو یہ ابتدائی حالت ہے لیکن موت کا کیا اعتبار ہے۔ موت ایک ایسا ناگزیر امر ہے جو ہر ایک کو پیش آتا ہے۔ جب یہ حالت ہے تو پھر آپ کیوں غافل ہیں۔ جب کوئی شخص مجھ سے تعلق نہیں رکھتا تو یہ امر دوسرا ہے لیکن جب آپ میرے پاس آئے ، میرا دعوی قبول کیا اور مجھے مسیح مانا تو گو یا من وجه آپ نے صحابہ کرام کے ہم دوش ہونے کا دعوی کر دیا تو کیا صحابہؓ نے کبھی صدق و وفا پر قدم مارنے سے دریغ کیا۔ ان میں کوئی کسل تھا۔ کیا وہ دل آزار تھے؟ کیا ان کو اپنے جذبات پر قابو نہ تھا ؟ وہ منکسر المزاج نہ تھے؟ ان میں پرلے درجہ کا انکسار تھا۔ سو دعا کرو کہ خدا تم کو بھی ویسی ہی توفیق عطا کرے کیونکہ تذلل اور انکساری کی زندگی کوئی اختیار نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کی مدد نہ کرے۔ اپنے آپ کوٹولو اور اگر بچہ کی طرح اپنے آپ کو کمزور پاؤ تو گھبراؤ نہیں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی دعا صحابہ کی طرح جاری رکھو۔ راتوں کو اٹھو اور دعا کرو کہ خدا تم کو اپنی راہ دکھلائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے بھی تدریجاً تربیت پائی۔ وہ پہلے کیا تھے ۔ وہ ایک کسان کی تخم ریزی کی طرح تھے۔