ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 447

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۴۷ جلد اول پر یقین رہتا ہے پھر کہہ دیتے ہیں کہ ”ایہ جہاں مٹھاتے اگلا کن ڈٹھا ۔ اس لیے خدا نے چاہا کہ اسلام کے ساتھ زندہ معجزہ ہو۔ صداقت اسلام کا نشان کس قوت اور تحدی اور تعیین سے بتایا گیا تھا اور اس ذریعہ سے اسلام کا نور ابد تک درخشاں رہے چنانچہ اس زندہ نور کی تصدیق کے لئے اس زمانہ میں ہی دیکھو کہ لیکھرام کے قتل ہونے سے پیشتر کہ وہ چھ سال کے اندر ہلاک ہو جاوے گا۔ غور کرو کہ وقت ، مدت ، صورت موت کا بتا دینا کیا انسان کے اپنے اختیار میں ہے اور پھر وہ اسی طرح مارا گیا جیسا کہ دعویٰ کیا گیا تھا۔ جب یہ پیش گوئی کی گئی تھوڑے ہی عرصہ میں کروڑہا انسانوں میں مشہور ہو گئی ۔ ہندو، مسلمان، عیسائی سکھ ہر قوم وملت کے لوگ اس سے واقف ہو گئے ۔ یہاں تک کہ عام بازاری لوگوں سے لے کر گورنمنٹ تک کو اطلاع ہو گئی اور خود آریوں نے بڑے زور وشور کے ساتھ اس کو مشتہر کیا اور جہاں لیکھر ام خود جاتا اس پیشگوئی کا ذکر کرتا اور شہرت دیتا اور جب پیشگوئی پوری ہوئی تو ایک عام شور بر پا ہو گیا یہاں تک کہ ہماری بھی خانہ تلاشی ہوئی تا کہ اس کی صداقت اور شہرت اس خاص ذریعہ سے اور بھی ہو اور یہ نشان ہمیشہ صفحہ دہر پر ثبت رہے۔ پھر مقدمات کے دوران میں سرکاری کاغذات اور مثلوں میں اس پیشگوئی کے متعلق ق بیانات اور کاغذات درج اور شامل ہوئے ۔ الغرض یہ ایسا عظیم الشان نشان ہے جس کی نظیر کوئی قوم دکھلا نہیں سکتی۔ کیا کسی انسانی طاقت اور فراست کا کام ہے کہ وہ کسی کی نسبت چار دن کی خبر بھی دے کہ فلاں وقت پر فلاں موت سے مر جاوے گا مگر یہاں چھ سال پہلے وقت ، صورت موت وغیرہ سے اطلاع دی گئی حالانکہ وہ تیس برس کا ایک مضبوط جوان آدمی تھا اور اس نے بھی تو میری نسبت کہا کہ میں تین سال کے اندر ہیضہ سے مر جاؤں گا اور میں اس کی نسبت عمر میں بہت بڑا اور ضعیف اور قریباً دائم المریض تھا مگر خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ کی چمکار دکھلائی اور اس کو ہلاک کر کے اپنے سچے دین کی صداقت پر مہر کر دی۔