ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 438 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 438

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۳۸ جلد اول اصلی مقصود اور مطلوب انسان کا ہے۔ اللہ کہتے ہیں معبود، مقصود ، مطلوب کو لا اله الا اللہ کے معنی یہی ہیں کہ لَا مَعْبُودَ لِي وَلَا مَقْصُودَ لِي وَلَا مَعْلُوبَ لِي إِلَّا اللهُ ۔ یہی سچی توحید ہے کہ ہر مدح و ستائش کا مستحق اللہ تعالیٰ ہی کو ٹھیرایا جاوے۔ پھر فرمایا مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ (الناس:۵) یعنی وسوسہ خنّاس کون ہے؟ ڈالنے والے کپاس کے شر سے پناہ مانگو۔ خنّاس عربی میں۔ ربی میں سانپ کو کہتے ہیں جسے عبرانی میں نحاش کہتے ہیں اس لئے کہ اس نے پہلے بھی بدی کی تھی ۔ یہاں ابلیس یا شیطان نہیں فرمایا تا کہ انسان کو اپنی ابتدا کی ابتلا یاد آوے کہ کس طرح شیطان نے ان کے ابوین کو دھوکا دیا تھا۔ اس وقت اس کا نام خنّاس ہی رکھا گیا تھا۔ یہ ترتیب خدا نے اس لئے اختیار فرمائی ہے تا کہ انسان کو پہلے واقعات پر آگاہ کرے کہ جس طرح شیطان نے خدا کی اطاعت سے انسان کو فریب دے کر روگرداں کیا ویسے ہی وہ کسی وقت ملک وقت کی اطاعت سے بھی عاصی اور روگرداں نہ کرادے۔ یوں انسان ہر وقت اپنے نفس کے ارادوں اور منصوبوں کی جانچ پڑتال کرتا رہے کہ مجھ میں ملک وطن کی اطاعت کس قدر ہے اور کوشش کرتا رہے اور خدا تعالیٰ سے دعا مانگتا رہے کہ کسی مدخل سے شیطان اس میں داخل نہ ہو جائے ۔ اب اس سورۃ میں جو اطاعت کا حکم ہے وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت کا حکم ہے کیونکہ اصلی اطاعت اسی کی ہے مگر والدین ، مرشد و ہادی اور بادشاہ وقت کی اطاعت کا بھی حکم ہے کیونکہ ان کی اطاعت کا بھی حکم خدا ہی نے دیا ہے اور اطاعت کا فائدہ یہ ہوگا کہ خناس کے قابو سے بچ جاؤ گے ۔ پس پناہ مانگو کہ خنّاس کی وسوسہ اندازی کے شر سے محفوظ رہو کیونکہ مومن ایک ہی سوراخ سے دو مرتبہ نہیں کاٹا جاتا۔ ایک بار جس راہ سے مصیبت آئے دوبارہ اس میں نہ پھنسو۔ پس اس سورۃ میں صریح اشارہ ہے کہ بادشاہ وقت کی اطاعت کرو۔ خناس میں خواص اسی طرح ودیعت رکھے گئے ہیں جیسے خدا تعالیٰ نے درخت، پانی، آگ وغیرہ چیزوں اور عناصر میں خواص رکھے ہیں ۔ عنصر کا لفظ اصل میں عن سر ہے۔ عربی میں ص اوراس کا بدل ہو جاتا ہے۔ یعنی یہ چیز اسرار الہی میں سے ہے۔ درحقیقت یہاں آکر انسان کی تحقیقات رک جاتی ہے۔