ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 434

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد الله له جلد اول مذہبی آزادی کے فوائد پھر مجملہ اور برکات کے جو تائید دین میں اس گورنمنٹ کے عہد میں ملی ہیں۔ ایک یہ بھی ہے کہ عقلی قومی اور ذہنی طاقتوں میں بڑی ترقی ہوئی ہے اور چونکہ گورنمنٹ نے ہر ایک مذہب کو اس کے مذہب کی اشاعت کی آزادی دی ہے۔ اسی طرح پر لوگوں کو ہر ایک مذہب کے اصول اور دلائل پر کھنے اور ان پر غور کرنے کا موقع مل گیا ہے ۔ اسلام پر جب مختلف مذہب والوں نے حملے کئے تو اہل اسلام کو اپنے مذہب کی تائید اور صداقت کے لئے اپنی مذہبی کتابوں پر غور کرنے کا موقع ملا اور ان کی عقلی قوتوں میں ترقی ہوئی۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جیسے جسمانی قومی ریاضت کرنے سے بڑھتے ہیں ایسا ہی روحانی قوی بھی ریاضت سے نشو نما پاتے ہیں ۔ جیسا گھوڑا چابک سوار کے نیچے آکر درست ہوتا ہے اسی طرح سے انگریزوں کے آنے سے مذہب کے اصولوں پر غور کرنے کا موقع ملا اور تدبر کرنے والوں کو استقامت اور استحکام مذہب حق میں زیادہ مل گیا اور جس جس موقع پر قرآن کریم کے مخالفوں نے انگشت رکھی وہیں سے غور کرنے والوں کو ایک گنج معارف کا ملا اور اس آزادی کی وجہ سے علم کلام نے معتد بہ ترقی کی اور وہ مخصوصاً اس جگہ ہوتی ہے ۔ اب اگر روم یا شام کا رہنے والا خواہ وہ کیسا ہی عالم وفاضل کیوں نہ ہو آ جاوے تو وہ عیسائیوں کے یا آریوں کے اعتراضات کا کافی جواب نہ دے سکے گا کیونکہ ملہ اس کو ایسی آزادی اور وسعت کے ساتھ مختلف مذاہب کے اصولوں کے مواز نہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ غرض جیسے جسمانی طور پر گورنمنٹ انگلشیہ سے ملک میں امن ہوا ایسے ہی روحانی امن بھی پوری طرح پھیلا۔ چونکہ ہمارا تعلق دینی اور روحانی باتوں سے ہے اس لئے ہم زیادہ تر ان امور کا ذکر کریں گے جو فرائض مذہب کے ادا کرنے میں گورنمنٹ کی طرف سے ہم کو بطور احسان ملے ہیں ۔ عبادات بجالانے کی شرائط پیس یادرکھنا چاہیے کہ انسان پوری آزادی اور اطمینان کے ساتھ عبادات کو تب ہی بجالا سکتا ہے کہ اس میں چار شرطیں موجود ہوں اور وہ یہ ہیں ۔ اڈل ۔ صحت ۔ اگر کوئی شخص ایسا ضعیف ہو کہ چار پائی سے اٹھ نہ سکے وہ صوم و صلوٰۃ کا کیا پابند