ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 428

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۲۸ جلد اول ۔ باوجود یکہ وہ وحدہ لاشریک ہے مگر اس نے طفیلی طور پر بعض کو اپنے محامد میں شریک کر لیا ہے۔ جیسے اس سورہ شریفہ میں بیان فرمایا ہے قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ مَلِكِ النَّاسِ إِلَهِ النَّاسِ مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ (النَّاسِ: ۲ تا ۷ ) اس میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی مستحق حمد کے ساتھ عارضی مستحق حمد کا بھی اشارہ ذکر فرمایا ہے۔ اور یہ اس لئے ہے که اخلاق فاضلہ کی تکمیل ہو چنانچہ اس سورۃ میں تین قسم کے حق بیان فرمائے ہیں ۔ فرمایا۔ تم پناہ مانگو اللہ کے پاس جو جامع جمیع صفات کا ملہ کا ہے اور جو رب ہے اور جو ملک ہے لوگوں کا اور پھر جو معبود و مطلوب حقیقی ہے لوگوں کا ۔ یہ سورۃ اس قسم کی ہے کہ اس میں اصل تو حید کو تو قائم رکھا ہے مگر معا یہ بھی اشارہ کیا ہے کہ دوسرے لوگوں کے حقوق بھی ضائع نہ کریں جو ان اسماء کے مظہر ظلی طور پر ہیں۔ رب کے لفظ میں اشارہ ہے کہ گو حقیقی طور پر خدا ہی پرورش کرنے والا اور تکمیل تک پہنچانے والا ہے۔ ربوبیت کے دو مظہر والدین اور روحانی مرشد لیکن عارض اور طلبی طور پر د اوربھی وجود ہیں جو ربوبیت کے مظہر ہیں۔ ایک جسمانی طور پر ۔ دوسرا روحانی طور پر جسمانی طور پر والدین ہیں اور روحانی طور پر مرشد اور ہادی ہے۔ دوسرے مقام پر تفصیل کے ساتھ بھی ذکر فرمایا ہے وَقَضَى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا (بنی اسراءیل: ۲۴) یعنی خدا نے یہ چاہا ہے کہ کسی دوسرے کی بندگی نہ کرو اور والدین سے احسان کرو۔ حقیقت میں کیسی ربوبیت ہے کہ انسان بچہ ہوتا ہے اور کسی قسم کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس حالت میں ماں کیا کیا خدمات کرتی ہے اور والد اس حالت میں ماں کی مہمات کا متکفل ہوتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے ناتواں مخلوق کی خبر گیری کے لیے دو محل پیدا کر دیئے ہیں اور اپنی محبت کے انوار سے ایک پر تو محبت کا اُن میں ڈال دیا مگر یا درکھنا چاہیے کہ ماں باپ کی محبت عارضی ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت حقیقی ہے اور جب تک قلوب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا القا نہ ہو کوئی فرد بشر خواہ دوست ہو یا کوئی برابر کے درجہ کا ہو یا کوئی حاکم ہو