ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 404 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 404

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد ولد جلد اول طریق ترقی نہ پکڑے مگر نہیں یہ ایک دریا ہے جو بہتا چلا جاتا ہے اور رُک نہیں سکتا ۔ انگریزی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی طر ز لباس ترقی پر ہے۔ یہاں تک کہ حجامت بنوانے میں بھی انگریزی طرز اور فیشن کو مقدم سمجھا جاتا ہے۔ یہ کیوں؟ صرف اس لیے کہ النَّاسُ عَلَى دِينِ مُلُو كِهِمْ ۔ یہ مت سمجھو کہ طرز لباس ہی نے ترقی کی ہے۔ نہیں یہ طرز بجائے خود ایک خطر ناک ترغیب ہے اور بہت سی باتوں کے لیے۔ انگریزی لباس کے بعد انگریزی طرز کی مجلسوں کا مذاق ترقی کرے گا اور کر رہا ہے۔ عیسائیت نے خمر کو حرام نہیں کیا۔ اس میں پردہ بھی ضروری نہیں ۔ قمار بازی بھی ممنوع نہیں ہے۔ پھر کھانے میں حلال و حرام کی کوئی تمیز نہیں۔ پس اس آزادی کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ مذہب حقیقی جو انسان کو ایک حد بندی کے درمیان رکھنا چاہتا ہے اس سے لوگوں نے تجاوز شروع کیا۔ انگریزی مجلسی مذاق میں شراب کا پینا لازمی امر ہے۔ جس محفل میں شراب نہ ہو وہ گو یا مجلس ہی قابل نفرت ہے۔ پس وہ لوگ جو انگریزی طرز اور فیشن کے دلدادہ ہیں وہ کب دین کی حدود کے اندر آنے لگے؟ اور مذہب کی طرف بلانے والوں کی طرف اُن کو رغبت ہو تو کس طرح ؟ میں سچ کہتا ہوں کہ لوگوں نے اس امر پر غور نہیں کی ہے کہ عیسائیت کیوں کر اندر ہی اندر سرایت کر رہی ہے۔ میں نے اس پر بہت غور کی ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ ہر ایک اس وقت عیسائیت کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ ان پادریوں نے اپنی طرف سے کوئی دقیقہ بھی اُس کے پھیلانے میں فروگزاشت نہیں کیا۔ ہر قسم کے طریق اشاعت کو اُنھوں نے اختیار کیا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ جائز ہے یا نا جائز ۔ یہ انگریزی فیشن ہی کا اثر ہے کہ اب علانیہ شراب پی جاتی ہے۔ زنا کاری کے لیے کوئی امر مانع نہیں ہے بلکہ اس کے محمد اور معاون امور پیدا ہوتے جاتے ہیں۔ قمار بازی گو قانو نا جرم ہو مگر اس کی بعض ایسی صورتیں پیدا کر لی گئی ہیں کہ وہ قانو نا جائز ہی قرار دی گئی ہیں۔ عیسائی عورتوں کا بے پردہ پھرنا اور عام طور پر غیر مردوں سے ملنا جلنا اس نے ایسا خطرناک اثر کیا ہے کہ بہت سے لوگ ہیں جو عورتوں کو بے پردہ سیر کرانا پسند کرتے ہیں اور مسلمانوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ