ملفوظات (جلد 1) — Page 33
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳ جلد اول طرح فرق نہ کرتے تھے۔ یتیموں کا مال کھاتے ، مردوں کا مال کھاتے۔ بعض ستارہ پرست بعض دہر یہ بعض عناصر پرست تھے۔ جزیرہ عرب کیا تھا ایک مجموعہ مذاہب اپنے اندر رکھتا تھا۔ اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قرآن کریم ہر ایک قسم کی تعلیم اپنے قرآن مجید کامل ہدایت ہے اندر رکھتا ہے۔ ہرایک غلط عقیدہ یا بی تعلیم جو دنیا میں من ہے اس کے استیصال کے لئے کافی تعلیم اس میں موجود ہے۔ یہ اللہ تعالی کی عمیق حکمت و تصرف ہے۔ چونکہ کامل کتاب نے آکر کامل اصلاح کرنی تھی ۔ ضرور تھا کہ اس کے نزول کے وقت اس کے جائے نزول میں بیماری بھی کامل طور پر ہو، تاکہ ہر ایک بیماری کا کامل علاج مہیا کیا جاوے۔سواس جزیرہ میں کامل طور سے بیمار تھے اور جن میں وہ تمام بیماریاں روحانی موجود تھیں جو اس وقت یا اس سے بعد آئندہ نسلوں کو لاحق ہونے والی تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ قرآن نے کل شریعت کی تکمیل کی اور کتابوں کے نازل ہونے کے وقت نہ یہ ضرورت تھی نہ ان میں ایسی کامل تعلیم ہے۔ ہمارے نبی اکمل کی برکات جس قدر بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کاعظیم الشان معجزہ ظہور میں ہیں اگر تمام خوارق وان کار الگ دیا جاوے تو آپ کی اصلاح ہی ایک عظیم الشان معجزہ ہے۔ اگر کوئی اس حالت پر غور کرے جب آپ آئے پھر اس حالت کو دیکھے جو آپ چھوڑ گئے تو اس کو ماننا پڑے گا کہ یہ اثر بذات خود ایک اعجاز تھا۔ اگر چہ کل انبیاء عزت کے قابل ہیں لیکن ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ( الجمعة : ۵) - اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لاتے تو نبوت تو در کنار خدائی کا ثبوت بھی اس طرح نہ ملتا۔ آپؐ کی تعلیم سے پتہ قُلْ هُوَ اللهُ أَحَدٌ - اللهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدُ وَ لَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ (الاخلاص: ۲ تا ۵) کا لگا۔ اگر توریت میں کوئی ایسی تعلیم ہوتی اور قرآن صرف اس کی تصریح ہی کرتا تو نصاری کا وجود ہی کیوں ہوتا ۔ غرض قرآن نے جس قدر تقویٰ کی راہیں اختیار قرآن پاک میں سب سچائیاں ہیں کیں اور ہر طرح کے انسانوں اور مختلف عقل