ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 385 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 385

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۵ جلد اول اور اسرار قرآنی کی واقفیت کے لئے تقویٰ پہلی شرط ہے۔ اس میں توبۃ النصوح کی ضرورت ہے۔ جب تک انسان پوری فروتنی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ اٹھا لے اور اس کے جلال اور جبروت سے لرزاں ہو کر نیاز مندی کے ساتھ رجوع نہ کرے قرآنی علوم کا دروازہ نہیں کھل سکتا اور روح کے ان خواص اور قومی کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا جس کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔ قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے علوم خدا کے ہاتھ میں ہیں۔ پس اس کے لئے تقویٰ بطور نردبان کے ہے۔ پھر کیوں کر ممکن ہو سکتا ہے کہ بے ایمان، شریر ، خبیث النفس ، ارضی خواہشوں کے اسیر ان سے بہرہ ور ہوں ۔ اس واسطے اگر ایک مسلمان مسلمان کہلا کر خواہ وہ صرف و نحو، معانی و بدیع وغیرہ علوم کا کتنا ہی بڑا فاضل کیوں نہ ہو دنیا کی نظر میں شیخ الکل فی الکل بنا بیٹھا ہولیکن اگر تزکیہ نفس نہیں کرتا قرآن شریف کے علوم سے اس کو حصہ نہیں دیا جاتا۔ میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دنیا کی توجہ ارضی علوم کی طرف بہت جھکی ہوئی ہے اور مغربی روشنی نے عالم کو اپنی نئی ایجادوں اور صنعتوں سے حیران کر رکھا ہے۔ مسلمانوں نے بھی اگر اپنی فلاح اور بہتری کی کوئی راہ سوچی تو بد قسمتی سے یہ سوچی ہے کہ وہ مغرب کے رہنے والوں کو اپنا امام بنالیں اور یورپ کی تقلید پر فخر کریں۔ یہ تو نئی روشنی کے مسلمانوں کا حال ہے۔ جو لوگ پرانے فیشن کے مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو حامی دین متین سمجھتے ہیں ان کی ساری عمر کی تحصیل کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ صرف ونحو کے جھگڑوں اور الجھیڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ضالین کے تلفظ پر مر مٹے ہیں۔ قرآن شریف کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں اور ہو کیوں کر جبکہ وہ تزکیہ نفس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ۔ ہاں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تزکیہ نفس کے دعوے کرتا ہے۔ وہ صوفیوں اور سجادہ نشینوں کا گروہ ہے مگر ان لوگوں نے قرآن شریف کو تو چھوڑ دیا ہے اور اپنے ہی طریق اختراع کر لئے ہیں۔ کوئی چلہ کشیاں کرتا ہے۔ کوئی الا اللہ کے نعرے مارتا ہے۔ کوئی نفی اثبات توجہ حبس دم وغیرہ میں مبتلا ہیں۔ غرض ایسے طریقے نکالے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتے اور نہ قرآن شریف کا یہ منشا ہے اور نہ کبھی سلسلہ نبوت نے ایسے طریقوں کو پسند کیا۔ غرض یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک