ملفوظات (جلد 1) — Page 382
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۸۲ جلد اول إِيَّاكَ أَعْبُدُ يَا إِيَّاكَ اَسْتَعِينُ نہیں کہا۔ اس لئے کہ اس میں نفس کے تقدم کی بو آتی تھی اور یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔ تقویٰ والا کل انسانوں کو لیتا ہے۔ زبان سے ہی انسان تقوی سے دور چلا جاتا ہے۔ زبان سے ہی تکبر کر لیتا ہے اور زبان سے ہی فرعونی صفات آجاتی ہیں اور اسی زبان کی وجہ سے پوشیدہ اعمال کو ریا کاری سے بدل لیتا ہے اور زبان کا زیاں بہت جلد پیدا ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو جو شخص ناف کے نیچے کے عضو اور زبان کو شر سے بچاتا ہے اس کی بہشت کا ذمہ دار میں ہوں۔ حرام خوری اس قدر نقصان نہیں پہنچاتی جیسے قول زور ۔ اس سے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ حرام خوری اچھی چیز ہے۔ یہ سخت غلطی ہے اگر کوئی ایسا سمجھے ۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اضطراراً سؤ رکھا لے تو یہ امر دیگر ہے لیکن اگر وہ اپنی زبان سے خنزیر کا فتوی دے دے تو وہ اسلام سے دور نکل جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال ٹھیراتا ہے۔ غرض اس سے معلوم ہوا کہ زبان کا زیاں خطر ناک ہے۔ اس لئے مشقی اپنی زبان کو بہت ہی قابو میں رکھتا ہے۔ اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی جو تقوی کے خلاف ہو۔ پس تم اپنی زبانوں پر حکومت کرو نہ یہ کہ زبانیں تم پر حکومت کریں اور اناپ شناپ بولتے رہو۔ ہر ایک بات کہنے سے پہلے سوچ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ کی اجازت اس کے کہنے میں کہاں تک ہے۔ جب تک یہ نہ سوچ لومت بولو۔ ایسے بولنے سے جو شرارت کا باعث اور فساد کا موجب ہو نہ بولنا بہتر ہے لیکن یہ بھی مومن کی شان سے بعید ہے کہ امر حق کے اظہار میں رکے۔ اس وقت کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور خوف زبان کو نہ روکے۔ دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا تو اپنے پرائے سب کے سب دشمن ہو گئے مگر آپ نے ایک دم بھر کے لئے کبھی کسی کی پروا نہ کی۔ یہاں تک کہ جب ابو طالب آپ کے چانے لوگوں کی شکایتوں سے تنگ آکر کہا۔ اُس وقت بھی آپ نے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں اس کے اظہار سے نہیں رک سکتا۔ آپ کا اختیار ہے میرا ساتھ دیں یا نہ دیں۔ پس زبان کو جیسے خدا تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف کسی بات کے کہنے سے روکنا ضروری ہے۔ اسی قدر امر حق کے اظہار کے لئے کھولنا لازمی امر ہے۔ ہے ۔ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ