ملفوظات (جلد 1) — Page 363
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۶۳ جلد اول مطلوب خدا ہوتا ہے اور بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی اور غمگساری جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے وہ دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں جو خود انہوں نے دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنا اُن کی تمنا ہوتی ہے اس لیے وہ جو کچھ کہتے ہیں بلاخوف لومة لائم کہتے ہیں۔ اُن کی نگاہ میں سامعین ایک مردہ کیڑے ہوتے ہیں۔ نہ اُن سے کوئی اجر مقصود ہوتا ہے نہ اُن کے واہ وا کی غرض ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات لوگ اُن کی باتیں سن کر گھبرا جاتے ہیں اور درمیان تقریر سے اٹھ اُٹھ کر چلے جاتے ہیں اور بسا اوقات گالیاں دیتے اور دُکھ دینے والی باتوں ہی پر اکتفانہ کر کے قسم قسم کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔ اس سے صاف پتا لگ جاتا ہے کہ نفسانی لذت کا طالب اور خواہشمند کون ہوتا ہے اور نفسانی لذت ہوتی کیا ہے؟ ایک طوائف کا ناچ ہو تو ساری رات بھی جاگنا اور زر دادن و در د سرخریدن کا مصداق ہونا بھی منظور لیکن ایک حقانی واعظ کے چند کلمے جو نہایت خلوص اور سچے جوش اور حقیقی ہمدردی کی بنا پر اس کے پاک منہ سے نکلتے ہیں ۔ اُن کے لئے سننا دشوار اور گراں مگر یہ حقانی واعظوں کی جماعت ان باتوں سے نہ کبھی گھبراتی اور نہ تھکتی ہے۔ کیوں؟ ان کے پیش نظر خدا ہوتا ہے جو اپنی لا انتہا قدرتوں اور فوق الفوق طاقتوں کے ساتھ اُن پر جلوہ نمائی کرتا ہے جو اُن پر سکینت اور استقلال نازل فرماتا ہے پھر وہ مردہ دنیا داروں کی پروا کیا کر سکتے ہیں ۔ یا درکھنا چاہیے کہ انسان کی پیدائش میں ایک رُوح کا حصہ ہے ربانی واعظ کا اثر روح پر دور افلس کا جوبہت پھیلا ہوا ہے۔ اب آپ لوگ یہ بات آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں کہ جو چیز زیادہ ہوگی اُس کا اثر زیادہ ہوگا۔ رُوح کا جوش ایسا ہے جیسے کوئی غریب الوطن نا واقف لوگوں میں آکر بسے ۔ پس روح جو گمنام حالت میں ہوتی ہے اُس پر بہت کم اثر ہوتا ہے۔ روح کے اثر کی علامت یہ ہے کہ جب ربانی واعظ اور حقانی ریفارمر بولتا ہے تو وہ اپنے وعظ میں سامعین کو کالعدم سمجھتا ہے اور پیغام رساں ہو کر باتیں پہنچاتا ہے۔ ایسی صورت میں روح میں ایک گدازش پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ پانی کے ایک آبشار کی طرح جو پہاڑ کے بلند کڑاڑے سے نشیب کی طرف گرتا ہے بے اختیار ہو کر گرتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف بہتی ہے اور