ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 348 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 348

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۴۸ جلد اول دوسرا مقام اور مرحلہ وہ ہے جو اس نے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) میں فرمایا ہے۔ یہاں وہ اس کی بات ماننے کا وعدہ فرماتا ہے۔ پس شہید اس پہلے مقام پر کھڑا ہوتا ہے یعنی انشراح صدر کے ساتھ اس کی بات مانتا ہے وہ دوست کے ایلام کو برنگ انعام مشاہدہ کرتا ہے۔ چوتھا درج صالحین کا چوتھا درجہ صالحین کا ہے یہ بھی جب کمال کے درجہ پر ہو تو ایک نشان اور معجزہ مقام صالحیت ہوتا ہے۔ کامل صلاح یہ ہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی فساد باقی نہ رہے۔ بدن صالح میں کسی قسم کا کوئی خراب اور زہریلا مادہ نہیں ہوتا بلکہ صاف اور مؤیّد صحت مواد اس میں ہو اس وقت صالح کہلاتا ہے۔ جب تک صالح نہیں لوازم بھی صالح نہیں ہوتے یہاں تک کہ مٹھاس بھی اُسے کڑوی معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح پر جب تک صالح نہیں بنتا اور ہر قسم کی بدیوں سے نہیں بچتا اور خراب مادے نہیں نکلتے اس وقت تک عبادات کڑوی معلوم ہوتی ہیں ۔ نماز میں جاتا ہے مگر اُسے کوئی لذت اور مسرور نہیں آتا ۔ وہ ٹکریں مار کر منحوس منہ سے سلام پھیر کر رخصت ہوتا ہے لیکن مزا اس وقت آتا ہے جب گندے مواد نکل جاتے ہیں تو اُنس اور ذوق شوق پیدا ہوتا ہے اور اصلاح انسانی اسی درجہ سے شروع ہوتی ہے۔ اس قدر تقریر کے بعد حضرت مسیح موعود نے دعا فرمائی اور جلسہ برخاست ہو گیا ) ۱۰ دسمبر ۱۸۹۹ء بروز اتوار ۹ بجے صبح - قادیان) تین سال کے اندر طلب نشان والی پیشگوئی کے اشتہار کا انگریزی میں ترجمہ ہو کر لاہور میں طبع ہونے کے واسطے آیا ہوا تھا۔ اس کو لے کر ہفتہ کی شام کو میں یہاں سے روانہ ہوا۔ اور چھینہ کے اسٹیشن پر اُتر کر الحکم جلد ۹ نمبر ۱۸ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۸ ۲۔ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ نے دسمبر ۱۸۹۹ء میں ڈاکٹر رحمت علی صاحب کے نام ایک مکتوب لکھا جس میں دارالامان کے حالات اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ملفوظات درج کئے یہ خط ۱۹ مارچ ۱۹۰۸ء کے بدر میں دارالامان کے حالات آج سے آٹھ سال پہلے“ کے عنوان سے شائع ہوا چنانچہ یہ ملفوظات اسی مکتوب میں سے لیے گئے ہیں جو ۱۸۹۹ء کے ہیں ۔ (مرتب)