ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 340 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 340

ملفوظات حضرت مسیح موعود الد ۔ جلد اول نے اپنے صدق و وفا کا وہ نمونہ دکھا یا جو ابدا لآباد کے لئے نمونہ رہے گا۔ اس مصیبت کی گھڑی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انتخاب ہی حضرت صدیق کی فضیلت اور اعلیٰ وفاداری کی ایک زبردست دلیل ہے۔ دیکھو! اگر وائسرائے ہند کسی شخص کو کسی خاص کام کے لئے انتخاب کرے تو وہ رائے بہتر اور صائب ہو گی یا ایک چوکیدار کی ۔ ماننا پڑے گا کہ وائسرائے کا انتخاب بہر حال موزوں اور مناسب ہوگا کیونکہ جس حال میں سلطنت کی طرف سے وہ نائب السلطنت مقرر کیا گیا ہے تو اس کی وفاداری، فراست اور پختہ کاری پر سلطنت نے اعتماد کیا ہے۔ تب زمام سلطنت اس کے ہاتھ میں دی ہے۔ پھر اس کی صائب تدبیری اور معاملہ فہمی کو پس پشت ڈال کر ایک چوکیدار کے انتخاب اور رائے کو صحیح سمجھ لیا جاوے یہ نا مناسب امر ہے۔ ہجرت میں رفاقت کے لئے حضرت ابو بکر کے انتخاب کا سر اسی طرح پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا انتخاب تھا۔ اس وقت آپ کے پاس سنتر انٹی صحابہ موجود تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی آپ کے پاس ہی تھے مگر آپ نے ان سب میں سے حضرت ابو بکر ہی کو منتخب کیا۔ اس میں ستر کیا ہے؟ بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ اس کا فہم خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کشف اور الہام سے بتادیا تھا کہ اس کام کے لئے سب سے بہتر اور موزوں حضرت ابوبکر صدیق ہی ہیں ۔ کے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس ساعت عُسر میں آپ کے ساتھ ہوئے۔ یہ وقت خطر ناک آزمائش کا تھا۔ حضرت مسیح پر جب اس قسم کا وقت آیا تو ان کے شاگرد اُن کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور ایک نے سامنے ہی لعنت بھی کی مگر صحابہ کرام میں سے ہر ایک نے پوری وفاداری کا نمونہ دکھایا۔ غرض حضرت ابو بکر صدیق نے آپ کا پورا ساتھ دیا اور ایک غار میں جس کو غار ثور کہتے ہیں آپ جا چھپے۔ شریر کفار جو آپ کی ایذارسانی کے لئے منصوبے کر چکے تھے تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔ حضرت ابو بکر صدیق نے عرض کی کہ اب تو یہ بالکل سر پر ہی آپہنچے ہیں اور اگر کسی نے ذرا نیچے نگاہ کی تو وہ دیکھ لے گا اور ہم الحکم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۲