ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 337

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۷ جلد اول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو حضرت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا بے نظیر صدق ابوبکر رضی اللہ عنہ کوصدیق کا خطاب دیا ہے تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ میں کیا کیا کمالات تھے۔ یہ بھی فرمایا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل کے اندر ہے اور حقیقت میں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جو صدق دکھایا ہے اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جو شخص صدیق کے کمالات حاصل کرنے کی خواہش کرے اسے ضروری ہے کہ ابوبکری خصلت اور فطرت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے جہاں تک ممکن ہے مجاہدہ کرے اور پھر جہاں تک ہو سکے دعا کرے۔ جب تک ابوبکری فطرت کا سایہ اپنے اوپر ڈال نہیں لیتا اور اسی رنگ میں رنگین نہیں ہو جاتا وہ کمالات حاصل نہیں ہو سکتے ۔ ابوبکری فطرت کیا تھی؟ اس پر مفصل بحث اور کلام کا یہ موقع نہیں ابوبکری فطرت کیا ہے؟ کیونکہ بہت عرصہ اس کے بیان کے لئے درکار ہے۔ مختصر طور پر میں ایک واقعہ بیان کرتا ہوں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اظہار نبوت فرمایا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ شام کی طرف گئے ہوئے تھے جب واپس آئے تو ابھی راستہ ہی میں تھے کہ ایک شخص ان سے ملا۔ اس سے مکہ کے حالات پوچھے اور کہا کہ کوئی تازہ خبر سناؤ۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب انسان سفر سے واپس آتا ہے تو اگر کوئی اہل وطن مل جاوے تو اس سے وطن کے حالات پوچھتا ہے۔ اس نے کہا کہ نئی بات یہ ہے کہ تیرے دوست محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے پیغمبری کا دعویٰ کیا ہے آپ نے سنتے ہی کہا اگر اس نے یہ دعوی کیا ہے تو بے شک وہ سچا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ پر کس قدر حسن ظن تھا۔ معجزے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور حقیقت یہ ہے کہ معجزہ وہ شخص مانگتا ہے جو حالات سے واقف نہ ہو اور جہاں غیریت ہو اور وہ تسلی پانے کے۔ کے لئے کہتا ہو۔ لیکن جس کو انکار ہی نہیں ہے اس کو معجزہ کی کیا ضرورت؟ غرض حضرت ابو بکر صدیق راستہ ہی میں سن کر ایمان لے آئے اور جب مکہ پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ کیا آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں درست ہے۔ اس پر حضرت ابو بکر صدیق نے کہا کہ آپ گواہ رہیں میں آپ کا پہلا مصدق ہوں لیکن یہ صرف