ملفوظات (جلد 1) — Page 335
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۳۵ جلد اول نے اپنی والدہ کی نصیحت کا ذکر کیا اور کہا کہ میں طلب دین کے لئے چلا ہوں اگر پہلی ہی منزل پر جھوٹ بولتا تو اور کیا حاصل کرتا ۔ اس لئے میں نے سچ کو نہیں چھوڑا۔ جب انہوں نے یہ بیان کیا تو وہ سردار چینیں مار کر رو پڑا اور آپ کے قدموں پر گر گیا اور اپنے گناہوں سے توبہ کی ۔ کہتے ہیں کہ پہلا مرید آپ کا وہی ہوا تھا۔ غرض صدق ایسی شے ہے جو انسان کو مشکل سے مشکل اوقات میں بھی نجات دیتا ہے۔ سعدی نے سچ کہا ہے کہ ع کس ندیدم که گم شد از راه راست پس جس قدر انسان صدق کو اختیار کرتا ہے اور صدق سے محبت کرتا ہے اسی قدر اس کے دل میں خدا کے کلام اور نبیوں کی محبت اور معرفت پیدا ہوتی ہے کیونکہ وہ تمام راستبازوں کے نمونے اور چشمے ہوتے ہیں ۔ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ ( التوبة : ۱۱۹) کا ارشاداسی اصول پر ہے۔ صدیق پر قرآن کریم کے معارف کا فیضان مختصر یہ کہ دوسرا کا انتَ عَلَيْهِمْ کمال انْعَمْتَ میں صدیقوں کا کمال ہے اس کمال کے حاصل ہونے پر قرآن شریف کے حقائق اور معارف کھلتے ہیں لیکن یہ فضل اور فیض بھی الہی تائید سے آتا ہے۔ ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور فضل کے بغیر ایک انگلی کا ہلانا بھی مشکل ہے۔ ہاں یہ انسان کا فرض ہے کہ سعی اور مجاہدہ کرے جہاں تک اس سے ممکن ہے اور اس کی توفیق بھی خدا تعالیٰ ہی سے چاہے کبھی اس سے مایوس نہ ہو کیونکہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خود بھی فرمایا لا يَايْنَسُ مِنْ رَّوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَفِرُونَ (یوسف: ۸۸) اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کا فرنا امید ہوتے ہیں ۔ ناامیدی بہت ہی بری چیز ہے۔ اصل میں نا امید وہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے۔ یہ خوب یا د رکھو کہ ساری خرابیاں اور برائیاں بدظنی صدق کی جڑ کاٹنے والی چیز ہے بدظنی سے پیدا ہوتی ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالی نے اس سے بہت منع کیا ہے اور فرمایا اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْم (الحجرات : ۱۳) اگر مولوی ہم سے بدظنی