ملفوظات (جلد 1) — Page 318
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۱۸ جلد اول لیکن جن لوگوں کو سچی معرفت اور بصیرت دی جاتی ہے اور وہ علم جس کا نتیجہ خشیت اللہ ہے عطا کیا جاتا ہے وہ وہ ہیں جن کو اس حدیث میں انبیاء بنی اسرائیل سے تشبیہ دی گئی ہے۔ اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے سچے علوم کا منبع اور سچے علوم کا سر چشمہ قرآن مجید ہے۔ سر چشم قرآن شریف اس امت کو دیا ہے۔ جوشخص ان حقائق و معارف کو پالیتا ہے جو قرآن شریف میں بیان کئے گئے ہیں اور جو حقیقی تقوی اور خشیت اللہ سے حاصل ہوتے ہیں اسے وہ علم ملتا ہے جو اس کو انبیاء بنی اسرائیل کا مثیل بنا دیتا ہے۔ ہاں یہ بات بالکل سچ ہے کہ ایک شخص کو جو ہتھیار دیا گیا ہے اگر وہ اس سے کام نہ لے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے نہ کہ اس ہتھیار کا ۔ اس وقت دنیا کی یہی حالت ہو رہی ہے۔ مسلمانوں نے باوجود یکہ قرآن شریف جیسی بے مثل نعمت ان کے پاس تھی جو ان کو ہر گمراہی سے نجات بخشتی اور ہر تاریکی سے نکالتی ہے لیکن انہوں نے اس کو چھوڑ دیا اور اس کی پاک تعلیموں کی پروا نہیں کی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اسلام سے بالکل دور جا پڑے ہیں یہاں تک کہ اب اگر حقیقی اسلام ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو چونکہ وہ اس سے بکلی بے خبر اور غافل ہیں اس لئے حقیقی مومن کو بھی کافر کہہ دیتے ہیں۔ اے بہت سے لوگ ہیں جو او باشانہ اور عیا شانہ ولی بننے کے لئے خدا داد قولی سے کام لو حالات زندگی رکھتے ہیں اور وہ دنیا کا فخر، دنیا کی عزت اور املاک و دولت چاہتے ہیں ۔ اس قسم کی آرزوؤں اور تمناؤں اور ان کے پورا کرنے کی تدبیروں اور تجویزوں میں ہی اپنی عمر کھو بیٹھتے ہیں۔ ان کی آرزوؤں کی انتہا نہیں ہوتی کہ پیغام موت آجاتا ہے۔ اب ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے قومی تو دیئے تھے۔ انہیں قومی سے اگر کام لیتے تو حق کو پالیتے لیتے۔ ۔ اللہ تعالیٰ نے تو بخل نہیں کیا مگر انہوں نے قومی سے کام نہ لیا یہ ان کی اپنی بدبختی ہے ۔ نیک بخت اور مبارک ہے وہ شخص جو ان قوئی سے کام لے۔ بہت سے آدمی ایسے بھی ہیں کہ جب ان کو کہا جاتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے اوامر کی پابندی کرو اور نواہی سے پر ہیز کرو۔ تو وہ کہہ دیتے الحکم جلد ۹ نمبر ۱۰ مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۵