ملفوظات (جلد 1) — Page 307
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۷ جلد اول حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت طیار نہیں ہو سکتی جب تک اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے واسطے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بے دلی بھی تھی۔ چنانچہ جب ان کو گرفتار کیا گیا تو پطرس جیسے اعظم الحوار تین نے اپنے آقا اور مرشد کے سامنے انکار کر دیا اور نہ صرف انکار کیا بلکہ تین مرتبہ لعنت بھی بھیج دی اور اکثر ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ اس کے بر خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھا یا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی ۔ انہوں نے آپ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھا نا سہل سمجھا یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا اپنے املاک و اسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کی خاطر جان تک دینے سے تامل اور افسوس نہیں کیا۔ یہی صدق اور وفا تھی جس نے ان کو آخر کا ربا مرا د کیا۔ اسی طرح میں اب دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کو بھی اس کی قدر اور مرتبہ کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفا داری اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ جس دن سے میں نے نصیبین کی طرف ایک جماعت کے بھیجنے کا ارادہ کیا ہے ہر ایک شخص کوشش کرتا ہے کہ اس خدمت پر میں مامور کیا جاؤں اور دوسرے کو رشک کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور آرزو کرتا ہے کہ اس کی جگہ اگر مجھے بھیجا جاوے تو میری بڑی ہی خوش قسمتی ہے۔ بہت سے احباب نے اس سفر پر جانے کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا۔ میں ان درخواستوں سے پہلے مرزا خدا بخش صاحب کو اس سفر کے واسطے منتخب کر چکا تھا اور مولوی قطب الدین اور میاں جمال الدین کو ان کے ساتھ جانے کے واسطے تجویز کر لیا تھا اس واسطے مجھے ان احباب کی درخواستوں کو واپس کر دینا پڑا ۔ تاہم میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جنہوں نے بعہد کامل اور سچے اخلاص کے ساتھ اپنے آپ کو اس خدمت کے لئے پیش کیا ہے اللہ تعالیٰ ان کی پاک نیتوں کے ثواب کو ضائع نہیں کرے گا اور وہ اپنے اخلاص کے موافق اجر پائیں گے۔ دور دراز بلا د اور ممالک غیر کا سفر آسان امر نہیں ہے خدا تعالیٰ کی خاطر سفر کی عظمت اور ہی کیا ہے کہ اس وقت سر آسان ہوگئے ہیں کہ اگر چہ یہ سچ ہے وقت سفر ہیں۔