ملفوظات (جلد 1) — Page 305
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۵ جلد اول اس ایک مسئلہ سے عیسائیت کا ستون بھی ٹوٹ جاتا ہے کیونکہ جب اس مسئلہ کی اہمیت صلیب پر میچ کی موتہی نہیں ہوئی اور وہ تین دن کے بعد زندہ ہوکر آسمان پر ہی نہیں گئے تو الوہیت اور کفارہ کی عمارت تو بیخ و بنیاد سے گر پڑی اور مسلمانوں کا غلط خیال (جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخت تو ہین ہوتی تھی کہ وہ زندہ آسمان پر چلے گئے ہیں اور پھر نازل ہوں گے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نیا ، پرانا نبی نہیں آ سکتا جس کی نبوت پر آپ کی مہر نہ ہو ) بھی دور ہو گیا۔ اور قرآن شریف کی اصل اور پاک تعلیم سچی ثابت ہو گئی ۔ کیونکہ قرآن شریف میں تو مسیح علیہ السلام کا صاف اقرار فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا موجود ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا۔ وفات مسیح مسیح کے مسئلہ پر زور دینے کی وجہ یہی وجہ ہے کہ ہم وفات میت کے مسئلہ پر زیادہ زور دیتے ہیں کیونکہ اسی موت کے ساتھ عیسائی مذہب کی بھی موت ہے۔ اسی غرض سے میں نے کتاب مسیح ہندوستان میں لکھنی شروع کی ہے اور اس کتاب کے بعض مطالب کی تکمیل کے لیے میں نے مناسب سمجھا ہے کہ اپنی جماعت میں سے چند آدمیوں کو بھیجوں ۔ جو اُن علاقہ جات میں جاکر ان آثار کا پتا لاویں جن کا وہاں موجود ہونا بتایا جاتا ہے ۔ چنانچہ اس غرض کو مد نظر رکھ کر ہم نے یہ جلسہ کیا ہے تا کہ ان دوستوں کو رخصت کرنے سے پہلے ہم سب مل کر اُن کے لیے دعائیں کریں کہ وہ خیر و عافیت کے ساتھ اس مبارک سفر کے لیے رخصت ہوں اور کامیاب ہو کر واپس آئیں۔ اگر چہ میں یقین رکھتا ہوں کہ یہ سفر حضرت مسیح کا واقعہ صلیب کے بعد نصیبین جانا تجویز کیا گیا جو تجویز کیا گیا ہے اگر نہ بھی کیا جاتا تو بھی خدا تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے اس قدر شواہد اور دلائل ہم کو اس امر کے لیے دے دیئے ہیں جن کو مخالف کا قلم اور زبان تو ڑ نہیں سکتی لیکن مومن ہمیشہ ترقیات کی خواہش کرتا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ حقائق اور معارف کا بھوکا پیاسا ہوتا ہے کبھی ان سے سیر نہیں ہوتا اس لیے