ملفوظات (جلد 1) — Page 302
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳۰۲ جلد اول عقائد کا کہاں تک ذکر کیا جاوے۔ حقیقت وہی ہے جو اسلام لے کر آیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے مامور کیا کہ میں اس نور کو جو اسلام میں ملتا ہے ان کو جو حقیقت کے جو یاں ہوں دکھاؤں ۔ سچ یہی ہے کہ خدا ہے اور ایک ہے اور میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر انجیل اور قرآن کریم اور تمام صحف انبیاء بھی دنیا میں نہ ہوتے تو بھی خدا تعالیٰ کی توحید ثابت تھی کیونکہ اس کے نقوش فطرت انسانی میں موجود ہیں۔ خدا کے لئے بیٹا تجویز کرنا گویا خدا تعالیٰ کی موت کا یقین کرنا ہے کیونکہ بیٹا مسیح کی ابنیت تو اس لئے ہوتا ہے کہ وہ یادگار ہو۔ اب اگر مسیح خدا کا بیٹا ہے تو پھر سوال ہوگا کہ کیا خدا کو مرنا ہے؟ مختصر یہ ہے کہ عیسائیوں نے اپنے عقائد میں نہ خدا کی عظمت کا لحاظ رکھا اور نہ قوائے انسان کی قدر کی ہے اور ایسی باتوں کو مان رکھا ہے کہ جن کے ساتھ آسمانی روشنی کی تائید نہیں ہے ۔ ایک بھی عیسائی ایسا نظر نہ آیا جو خوارق دکھا سکے اور اپنے ایمان کو ان نشانات سے ثابت کر سکے جو مومنوں کے ہوتے ہیں ۔ یہ فضیلت اور فخر اسلام ہی کو ہے کہ ہر زمانہ میں تائیدی نشان اس کے ساتھ ہوتے ہیں اور اس زمانہ کو بھی خدا نے محروم نہیں رکھا ۔ مجھے اسی غرض کے لئے بھیجا ہے کہ ان تائیدی نشانوں سے جو اسلام کا خاصہ ہے اس زمانہ میں اسلام کی صداقت دنیا پر ظاہر کروں۔ مبارک وہ جو ایک سلیم دل لے کر میرے پاس حق لینے کے لئے آتا ہے اور پھر مبارک وہ جو حق دیکھ کر اس کو قبول کرتا ہے۔ الحکم جلد ۴ نمبر ۲۸ مورخه ۹ راگست ۱۹۰۰ صفحه ۳، ۴