ملفوظات (جلد 1) — Page 283
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۸۳ جلد اول سلسلہ احمدیہ کے قیام کا مقصد جولالی ۱۸۹۹ء ایک معزز افسر جو کسی تقریب پر اگلے دن قادیان تشریف لائے تو حضرت اقدس امامنا مرزا غلام احمد صاحب رئیس قادیان نے بھی ان کی دعوت کی جب کہ سب مہمان کھانے کے واسطے جمع ہوئے تو دستر خوان کے بچھائے جانے سے پہلے حضرت اقدس نے اس مہمان کو اور دوسرے احباب کو مخاطب کر کے فرمایا ۔ اے جب کبھی آپ اس جگہ قادیان میں تشریف لاویں بے تکلف ہمارے گھر میں تشریف لایا کریں۔ ہمارے ہاں مطلقاً تکلف نہیں ہے۔ ہمارا سب کا روبار دینی ہے اور دنیا اور اس کے تعلقات اور تکلفات سے ہم بالکل جدا ہیں ۔ گویا کہ ہم دنیا داری کے لحاظ سے مثل مردہ کے ہیں ۔ ہم محض دین کے ہیں اور ہمارا سب کارخانہ دینی ہے جیسا کہ اسلام میں ہمیشہ بزرگوں اور اماموں کا ہوتا آیا ہے۔ اور ہمارا کوئی نیا طریق نہیں بلکہ لوگوں کے اس اعتقادی طریق کو جو کہ ہر طرح سے ان کے لئے خطرناک ہے دور کرنا اور ان کے دلوں سے نکالنا ہمارا اصل منشا اور مقصود ہے مثلاً بعض نادان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ غیر قوموں کے لوگوں کی چیزیں چرا لینا جائز ہے اور کافروں کا مال ہمارے لئے حلال ہے اور پھر اپنی ان نفسانی خواہشوں کی خاطر اس کے مطابق حدیثیں بھی گھڑ رکھی ہیں۔ پھر وہ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ جو دوبارہ دنیا میں آنے والے ہیں تو ان کا کام لاٹھی مارنا اور خونریزیاں کرنا ہے حالانکہ جبر سے کوئی دین دین نہیں ہو سکتا۔ غرض اسی قسم کے خوفناک عقیدے اور غلط خیالات ان لوگوں کے دلوں میں پڑے ہوئے ہیں جن کو دور کرنے کے واسطے اور پر امن عقائد ان کی جگہ قائم کرنے لے جناب مفتی محمد صادق صاحب لکھتے ہیں۔ یہ گفتگو ایسی مفید اور کارآمد باتوں پر مشتمل تھی کہ میں نے اکثر فقروں کو اپنی عادت کے موافق اسی وقت اپنی نوٹ بک میں جمع کیا اور بعد میں مجھے خیال آیا کہ بذریعہ اخبار الحکم میں دوسرے احباب کو بھی اس پر لطف تقریر کے مضمون سے حظ اٹھانے کا موقع دوں لہذا ان فقرات کی مدد سے اور اپنی یادداشت کے ذریعہ میں نے مفصلہ ذیل عبارت ترتیب دی ہے۔