ملفوظات (جلد 1) — Page 268
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۸ جلد اول ۲۶ رفروری ۱۸۹۹ء حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ایک لیکچر کی تعریف حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کے لیکچر ( موسومہ حضرت اقدس مرزاغلام احمد قادیانی نے کیا اصلاح اور تجدید کی ) کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے پڑھا اور ۲۶ فروری ۱۸۹۹ء کو مسجد مبارک میں احباب سے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہمارے سب دوست اسے ضرور پڑھیں ۔اس لئے کہ اس میں بہت سے نکات لطیفہ ہیں اور یہ نمونہ ہے ایک شخص کی قوت تقریر کا اور اسی منوال پر مخصوصاً ہماری جماعت کو مقرر بننے کی کوشش کرنی چاہیے۔' ۱۰ مارچ ۱۸۹۹ء ر صبح سیر کو جاتے ہوئے حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔ بلند ہمتی اور شجاعت ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ ہمت اخلاق فاضلہ میں سے ہے اور مؤمن بڑا بلند ہمت ہوتا ہے ہر وقت خدا تعالیٰ کے دین کی نصرت اور تائید کے لئے طیار رہنا چاہیے اور کبھی بہ بزدلی ظاہر نہ کرے۔ بزدلی منافق کا نشان ہے۔ مومن دلیر اور شجاع ہوتا ہے مگر شجاعت اعت سے یہ مراد نہیں ہے کہ اس میں موقع شناسی نہ ہو۔ موقع شناسی کے بغیر جو فعل کیا جاتا ہے وہ تہو رہوتا ہے۔ مومن میں شتاب کاری نہیں ہوتی بلکہ وہ نہایت ہوشیاری اور تحمل کے ساتھ نصرت دین کے لئے طیار رہتا ہے اور بزدل نہیں ہوتا ۔ انسان سے کبھی ایسا کام ہو جاتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کو ناراض کر دیتا ہے اور کبھی نا پسند کر دیتا ہے۔ مثلاً کسی سائل کو اگر دھکا دیا تو سختی کا موجب ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ الحکم جلد ۱۰ نمبر ۳۵ مورخه ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۶ صفحه ۷