ملفوظات (جلد 1) — Page 266
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۶ جلد اول اس لیے اچھا ہوا کہ ہم وہاں نہیں ٹھہرے ۔ ایسے لوگوں سے دور ہی رہنا اچھا ہے۔ ( نوٹ از مرتب ) تبدیل فرودگاہ کا باعث یہ ہوا کہ حضرت اقدس بسواری پالکی روانہ ہوئے تھے اور حضرت مولانا نورالدین صاحب اور چند اور دوست بٹالہ کے راستہ سے گاڑی پر سوار ہوئے تھے اور یہ امر مقرر شدہ تھا کہ مقام نزول لیل ہی ہوگا ، مگر حضرت اقدس کو راستہ میں رانی ایشر کور ( سکنہ دھام ۔ سردار جیمل سنگھ کی بیوہ بہو ) کا خاص آدمی پیغام لے کر ملا کہ آپ میرے ہاں قیام فرماویں؛ چنانچہ حضرت اقدس نے اس کا پیغام منظور فرمالیا اور وہیں قیام فرما ہوئے ، مگر گاڑی والے دوستوں کو اطلاع نہ ہوئی اس لیے وہ لیل ہی پہنچے۔ بعد میں حضرت اقدس کے بُلوانے پر سب وہیں اکٹھے ہو گئے ۔ ) غیر مسلم کی دعوت اور نذر تھوڑی دیر کے بعد رانی ایشرکور نے اپنے اہلکاروں کے ہاتھ ایک تھال مصری کا اور ایک باداموں کا بطور نذر پیش کیا اور کہلا بھیجا، بڑی مہربانی فرمائی ۔ میرے واسطے آپ کا تشریف لانا ایسا ہے جیسے سردار جیسے سردار جیمیل سنگھ آنجہانی کا آنا۔ حضرت اقدس نے نہایت سادگی اور اُس لہجہ میں جو ان لوگوں میں خدا داد ہوتا ہے فرمایا کہ اچھا آپ نے چونکہ دعوت کی ہے ہم یہ نذر بھی لے لیتے ہیں۔ استقلال کھانا کھا چکنے کے بعد ایک سفید ریش شخص کی بابت عرض کیا گیا کہ وہ کچھ عرض کرنا چاہتا ہے۔ حضرت اقدس نے نہایت فراخدلی سے فرمایا ”ہاں“ چنانچہ وہ شخص پیش ہوا اور اس نے اپنی درخواست منظوم پیش کی ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ استقلال سے اگر طبیب کا علاج کیا جاوے وہ بہت مہربان ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ فائدہ بھی دیتا ہے۔ آپ سے دریافت کیا گیا کہ سفر کے لئے روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟ آپ نے سفر میں روزہ فرمایا کہ قرآن کریم سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ فَمَنْ كَانَ مِنْكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ (البقرة : ۱۸۵) یعنی مریض اور مسافر روزہ نہ رکھے ۔ اس میں امر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ نے نہیں فرمایا کہ جس کا اختیار ہو رکھ لے، جس کا اختیار ہو نہ رکھے۔ میرے خیال میں مسافر کو روزہ نہیں