ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 264 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 264

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۶۴ جلد اول السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ کہنے سے جواب ملتا ہے۔ پس جو آدمی ان قوئی سے کام لے جن سے کشف قبور ہو سکتا ہے وہ اُن تعلقات کو دیکھ سکتا ہے ۔ ہم ایک بات مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں کہ ایک نمک کی ڈلی اور ایک مصری کی ڈلی رکھی ہو۔ اب عقل محض ان پر کیا فتوی دے سکے گی ۔ ہاں ! اگر اُن کو چکھیں گے تو دو جدا گانہ مزوں سے معلوم ہو جاوے گا کہ یہ نمک ہے اور وہ مصری ہے لیکن اگر حس لسان ہی نہیں تو نمکین اور شیریں کا فیصلہ کوئی کیا کرے گا؟ پس ہمارا کام صرف دلائل سے سمجھا دینا ہے۔ آفتاب کے چڑھنے میں جیسے ایک اندھے کے انکار سے فرق نہیں آسکتا اور ایک مسلوب القوة کے طریق استدلال سے فائدہ نہ اٹھانے سے اس کا ابطال نہیں ہو سکتا اسی طرح پر اگر کوئی شخص کشفی آنکھ نہیں رکھتا تو وہ اُس تعلق ارواح کو کیونکر دیکھ سکتا ہے؟ پس اس کے انکار سے محض اس لیے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا اس کا انکار جائز نہیں ہے۔ ایسی باتوں کا پتا نری عقل اور قیاس سے کچھ نہیں لگتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس لیے انسان کو مختلف قومی دیئے ہیں ۔ اگر ایک ہی سب کام دیتا تو پھر اس قدر قوی کے عطا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ بعض کا تعلق آنکھ سے ہے اور بعض کا کان سے ، بعض زبان ۔ بعض زبان سے متعلق ہیں اور بعض ناک سے مختلف قسم کی حسیں انسان رکھتا ہے۔ قبور کے ساتھ تعلق ارواح کے دیکھنے کے لئے کشفی قوت اور جس کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی کہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ غلط کہتا ہے ۔ انبیا علیہم السلام کی ایک کثیر تعداد کروڑ ہا اولیاء وصلحاء کا سلسلہ دنیا میں گزرا ہے اور مجاہدات کرنے والے بے شمار لوگ ہو گزرے ہیں اور وہ سب اس امر کی زندہ شہادت ہیں ۔ گو اس کی اہمیت اور تعلقات کی وجہ عقلی طور پر ہم معلوم کر سکیں یا نہ مگر نفس تعلق سے انکار نہیں ہو سکتا۔ غرض کشفی دلائل ان ساری باتوں کا فیصلہ کئے دیتے ہیں۔ کان اگر دیکھ نہ سکیں تو ان کا کیا قصور؟ وہ اور قوت کا کام ہے۔ ہم اپنے ذاتی تجربہ سے گواہ ہیں کہ رُوح کا تعلق قبر کے ساتھ ضرور ہوتا ہے۔ انسان میت سے کلام کر سکتا ہے روح کا تعلق آسمان سے بھی ہوتا ہے جہاں اس کے لئے ایک مقام ملتا ہے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ یہ ایک ثابت شدہ صداقت ہے۔ ہندوؤں کی کتابوں میں بھی اس کی گواہی موجود ہے ۔ یہ مسئلہ عام طور پر مسلّمہ مسئلہ ہے۔ بجز اس فرقہ کے جو نفی بقائے رُوح کرتا ہے - اور