ملفوظات (جلد 1) — Page 19
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹ جلد اول کوئی خطرہ نہیں ۔ اب گل جنگ اپنے نفسانی جذبات کے برخلاف ختم ہو چکی اور وہ امن میں آ گیا اور ہر ایک قسم کے خطرات سے پاک ہو گیا۔ اسی امر کی طرف ہمارے ہادی کامل صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا ہے۔ فرمایا کہ ہر ایک کے ساتھ شیطان ہوتا ہے لیکن میرا شیطان مسلم ہو گیا ہے۔ سومشتقی کو ہمیشہ شیطان کے مقابل جنگ ہے لیکن جب وہ صالح ہو جاتا ہے تو گل جنگیں بھی ختم ہو جاتی ہیں۔ مثلاً ایک ریا ہی ہے جس سے اسے آٹھوں پہر جنگ ہے۔ متقی ایک ایسے میدان میں ہے جہاں ہر وقت لڑائی ہے۔ اللہ کے فضل کا ہاتھ اس کے ساتھ ہو تو اسے فتح ہو۔ جیسے ریا جس کی چال ایک چیونٹی کی طرح ہے۔ بعض وقت انسان بے سمجھے لیکن موقع پر ریا کو دل میں پیدا ہونے کا موقع دے دیتا ہے۔ مثلاً ایک کا چاقو گم ہو جاوے اور وہ دوسرے سے دریافت کرے تو اس موقع پر ایک متقی کا جنگ شیطان سے شروع ہو جاتا ہے جو اسے سکھاتا ہے کہ مالک چاقو کا اس طرح دریافت کرنا ایک قسم کی بے عزتی ہے جس سے اس کے افروختہ ہونے کا احتمال ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ آپس میں لڑائی بھی ہو جاوے۔ اس موقع پر ایک متقی کو اپنے نفس کی بدخواہش سے جنگ ہے ۔ اگر اس شخص میں محض اللہ دیانت موجود ہو تو غصہ کرنے کی اس میں ضرورت ہی کیا ہے، کیونکہ دیانت جس قدر مخفی رکھی جاوے اسی قدر بہتر ہو۔ مثلاً ایک جواہری کو راستہ میں چند چورمل جاویں اور چور آپس میں اس کے متعلق مشورہ کریں۔ بعض اسے دولت مند بتلاویں اور بعض کہیں کہ وہ کنگال ہے۔ اب مقابلتاً یہ جواہری انہیں کو پسند کرے گا جو اسے کنگال ظاہر کریں گے۔ اسی طرح یہ دنیا کیا ہے۔ ایک قسم کی دارالا بتلا ہے۔ وہی اچھا اعمال میں اخفا اچھا ہے ہے جو ہر ایک امرخفیہ رکھے اور ریا سے بچے۔ وہ لوگ جن کے اعمال الہی ہوتے ہیں وہ کسی پر اپنے اعمال کو ظاہر ہونے نہیں دیتے ۔ یہی لوگ متقی ہیں۔ میں نے تذکرۃ الاولیاء میں دیکھا ہے کہ ایک مجمع میں ایک بزرگ نے سوال کیا کہ اس کو کچھ روپیہ کی ضرورت ہے کوئی اس کی مدد کرے۔ ایک نے صالح سمجھ کر اس کو ایک ہزار روپیہ دیا۔ انہوں نے روپیہ لے کر اس کی سخاوت اور فیاضی کی تعریف کی ۔ اس بات پر وہ رنجیدہ ہوا کہ جب یہاں ہی