ملفوظات (جلد 1) — Page 256
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۵۶ جلد اول لیتے اس لیے ہم کو کامل امید ہے کہ یہ رسالہ کشف الغطاء گورنمنٹ عالیہ کو ہمارے حالات اور ہماری تعلیمات سے اطلاع دے گا اور ہمارے ہر دوست کے پاس بطور سارٹیفکٹ کے رہے گا۔ ۱۵ جنوری ۱۸۹۹ء صبح مہر نبوت کی اصل حقیقت بعد نماز منح مولوی قطب الدین صاحب ساکن بدوملہی نے وو سوال کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کنفینِ مبارک کے درمیان جو مہر نبوت بتلائی جاتی ہے اور کہتے ہیں کہ رسولی کی طرح تھی۔ اس کی اصل حقیقت کیا ہے؟ فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہر نبوت کے متعلق جو اعتراض کیا جاتا ہے ہمارے خیال میں یہ ایک فروعی بات ہے مگر میں یہ بات اپنے سچے جوش اور اخلاص سے کہتا ہوں کہ میرا ایمان یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی نشان نبوت کو رسولی وغیرہ الفاظ سے نسبت دینا ایک مومن اور ۔ مومن اور سچے مسلمان کا کام نہیں ۔ یہ گستاخی اور شوخی ہے جو کفر کی حد تک پہنچ جاتی ہے۔ ہم کو ایسے معاملات میں زیادہ تفتیش اور چھان بین کی ضرورت نہیں کہ وہ مہر نبوت کیا تھی ؟ اور کیسی تھی؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے بے شمار نشانات بین اور واضح طور پر رکھے تھے۔ ان میں سے ایک مہر نبوت بھی تھی ۔ اصل بات یہ ہے کہ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے انبیاء علیہم السلام کو ایسی ہی نسبت ہے جیسی کہ ہلال کو بدر سے ہوتی ہے ۔ ہلال کا وجود ایک تاریکی میں ہوتا ہے لیکن جب وہ اپنے کمال کو پہنچ کر بدر بن جاتا ہے تو وہ بدر اپنی پہلی حالت ہلال کا مثبت اور مصدق ہو جاتا ہے۔ پس یقیناً سمجھو کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ آتے تو پہلے نبی اور ان کی نبوتوں کے پہلو مخفی رہتے۔ اب سوچو اور بتلاؤ کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسیح علیہ السلام پر احسان موجودہ اناجیل سے انسان طریق توحید کا پتا لگا سکتا ہے۔ کیسی حیران کرنے والی بات ہے کہ خدائے تعالیٰ کا نبی اس کی توحید کو قائم کرنے آیا