ملفوظات (جلد 1) — Page 233
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۳ جلد اول کرتے۔ وبا قادیان سے ۳۵ کوس کے فاصلے پر ہے۔ گو شدت حرارت کی وجہ سے کم ہوتی جاتی ہے مگر کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ شدت حرارت میں کم ہو گئی تو آئندہ سال نہ آئے گی مجھے چند مرتبہ بذریعہ الہام اور رویا سے معلوم ہوا ہے کہ وبا ملک میں پھیلے گی اور میں اس کو پیشتر شائع کر چکا ہوں کہ سیاہ رنگ کے پودے لگائے جارہے ہیں۔ لگانے والوں سے پوچھا تو انہوں نے طاعون کے درخت بتلائے۔ یہ بڑی خطرناک بات ہے۔ ایسا ہی میں یہ بھی بتلا چکا ہوں وعیدی پیشگوئیاں تو بہ اور استغفار سے مل سکتی ہیں اہیں کہ وعید کی پیشگوئیاں تو بہ اور استغفار سے مل سکتی ہیں یہاں تک کہ دوزخ کا وعید بھی مل سکتا ہے۔ لوگ اس طرف رجوع کریں اور توجہ کریں تو اللہ تعالیٰ اس ملک اور خطے کو چاہے گا تو محفوظ رکھ لے گا۔ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ مگر فرماتا ہے قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمُ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : ۷۸) ان لوگوں کو کہہ دے کہ اگر تم میری بندگی نہ کرو تو پروا کیا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں گلی گلی میں حکیم ہیں ، ڈاکٹر موجود ہیں ، شفا خانے کھلے ہیں وہ فوراً علاج کر کے اچھے ہو جائیں گے؟ مگر ان کو معلوم نہیں کہ خود بمبئی اور کراچی میں بڑے بڑے ڈاکٹر کتنے مبتلا ہو کر چل بسے ہیں؟ جو اس خدمت پر مامور ہو کر گئے تھے خود ہی شکار ہو گئے ۔ یہ خدا تعالیٰ اپنے تصرفات کا مشاہدہ کراتا ہے کہ محض ڈاکٹروں یا علاج پر بھروسہ کرنا دانشمندی نہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ دوسرے عالم پر بھی ایمان پیدا ہو۔ اب لوگ زور لگا کر دکھاویں جس طرح انسان ایک بالشت بھر زمین کے لئے مرتا ہے، سازشیں کرتا اور مقدمات کی زیر باریاں اٹھاتا ہے کیا وہ خدا تعالیٰ کے کسی حکم کی تعمیل نہ کرنے پر بھی ویسا ہی قلق اور کرب اپنے اندر پاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ نادان انسان جب شدید امراض میں مبتلا ہوتا ہے تو خدا کو پکارتا ہے لیکن یونہی آزمائشی طور پر اسے مہلت ملتی ہے تو پھر ایک ایسا اصول قائم کرتا ہے اور ایسی چال چلتا ہے کہ گویا مرنا ہی نہیں ۔ معمولی امراض سے مر جانے پر بھی بہت تھوڑا اثر اب دلوں پر ہوتا ہے۔ دو تین روز تک برائے نام قائم رہتا ہے پھر وہی ہنسی مخول اور مزخرفات ، قبرستان میں جاتے ہیں اور مردے گاڑتے ہیں مگر کبھی نہیں سوچتے کہ آخر ایک دن مر کر ہم