ملفوظات (جلد 1) — Page 231
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۳۱ جلد اول اندرونی پاکیزگی پاس بھی نہ پھٹکے ۔ پس یا د رکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے ۔ اس لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کو نسل کرو۔ ہر نماز میں وضو کر و ۔ جماعت کھڑی کرو تو خوشبو لگا لو۔ عیدین میں اور جمعہ میں خوشبو لگانے کا جو حکم ہے وہ اسی بنا پر قائم ہے۔ اصل وجہ یہ ہے کہ اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہے۔ پس غسل کرنے اور صاف کپڑے پہنے اور خوشبو لگانے سے سمیت اور عفونت سے روک ہوگی ۔ جیسا اللہ تعالیٰ نے زندگی میں یہ مقرر کیا ہے ویسا ہی قانون مرنے کے بعد بھی رکھا ہے۔ کافور کے خواص مسلمان کو مرتے وقت کافور کا استعمال کرنا سنت ہے۔ یہ اس لئے کہ کافور ایسی چیز ہے جو وبائی کیڑوں کو مارتی اور سمیت کو دور کرتی ہے۔ انسان کے لئے ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔ بہت سی عفونتی بیماریوں کو روکتی ہے اس لئے قرآن میں حکم ہے کہ مومنوں کو کافوری شربت پلا یا جاوے گا۔ اور آج کل بھی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کافور جیسا ہیضہ کے لئے مفید ہے ویسا ہی طاعون کے لئے مفید ہے۔ میں اپنی جماعت کو بتلاتا ہوں کہ یہ بہت مفید چیز ہے۔ اور میرا اعتقاد ہے کیونکہ قرآن کریم نے بتلایا ہے کہ یہ جلن کو روکتا ہے اور اس کو سکینت اور تفریح دیتا ہے۔ یہ ہم کو اس طرف رغبت دلاتا ہے کہ کافور کا استعمال کیا کریں ۔ آج کل ایک بات اور ثابت ہوئی ہے کہ کافور کے ساتھ جدوار استعمال کریں۔ پس جدوار کو لے کر سرکہ میں ملا کر گولیاں بنانی چاہئیں اور دو دورتی کی گولیاں بنا کر تازہ کسی کے ساتھ استعمال کرو۔ عورتوں اور بچوں کو یہ گولیاں روز مرہ اگر استعمال کرائی جاویں تو بہت مفید ہیں ۔ ہم بھی ایک دوا تیار کر رہے ہیں جو خدا تعالیٰ چاہے گا بہت فائدہ مند ہوگی ۔ دراصل یہ کمبخت مرض تو ایسا ہے کہ کسی علاج پر بھروسہ کرنا تو غلطی ہے جب تک اللہ تعالیٰ ہی کا فضل نہ ہو مگر عام اسباب تندرستی اور قانون صحت میں سے حفظ ما تقدم بھی ایک عمدہ چیز ہے اور فائدہ مند ثابت ہوا ہے پس مناسب ہے کہ سمیت اور عفونت پیدا کرنے والی چیزوں سے پر ہیز کیا جاوے۔ اور بعض تیز غذاؤں سے جو دوران خون کو تیز کرتی ہیں جیسے بہت گوشت اور بہت حد سے زیادہ دھوپ میں پھرنا یا سخت اور شدید محنت کرنا ان ۔ رید محنت کرنا ان سے پر ہیز کرنا مناسب ۔ میٹھا ا یا حدث حد - ہے۔