ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 228 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 228

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۸ جلد اول دھمکی دے رہا ہے لیکن میں نہیں دیکھتا کہ لوگوں کو ایک کھا جانے والا غم پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ تو بہ اور استغفار میں مصروف ہوں۔ میں نہیں دیکھتا کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوں یا نمازوں کی پابندی کا التزام کرتے ہوں۔ بلکہ ظلم اور بداخلاقی کے طریقے استعمال میں آ رہے ہیں۔ طاعون کا قاعدہ ہے کہ وہ سخت پرواز کر کے پرندے کی طرح دوسرے مقام میں پہنچتی ہے۔ اس کی رفتار میں ایسا نظام نہیں ہے کہ منزل بہ منزل جاوے بلکہ دو چار سوکوس کا فاصلہ طے کر کے یکلخت جا پہنچتی ہے۔ اب بمبئی اور جالندھر کی ہی بابت خیال کرو کہ ان میں کس قدر فاصلہ ہے۔ اب بتلاؤ کہ انسان اس کے جالندھر میں پہنچنے کی بابت کیا نظام رفتار کا قائم کر سکتا ہے۔ الغرض اس کی رفتار کی نسبت کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا۔ آج عافیت سے گزرتی ہے کل کیا ہو۔ یہ خطرناک بات ہے۔ اس کے دورے بڑے لمبے ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ساٹھ ساٹھ سال تک اس کا دورہ ہوتا ہے اور یہ ایک مسلّم اور مقبول بات ہے۔ ہیضہ کی طرح نہیں کہ ساون بھادوں کے مہینے میں آ گیا اور بیس پچیس دن رہ کر رخصت ہوا۔ طاعون کو حکیموں نے نیزے سے مارنے والی لکھا ہے۔ طاعون مبالغہ کا صیغہ ہے جس کا نشانہ خطا نہیں جاتا۔ اور کثرت اموات بہت ہوتی ہے۔ تو رات میں بھی اس کا ذکر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں یہودیوں پر پڑی تھی۔ تو رات میں خدا نے جہاں پھوڑوں کی مار سے ڈرایا ہے اس سے طاعون ہی مراد ہے۔ قرآن کریم میں بھی یہودیوں کو نافرمانی پر طاعون سے ہلاک کرنے کا ذکر ہے۔ ان مقامات رات اور کریم غور کرنے سے پتا ان مقامات تورات اور قرآن کریم پر غور کرنے سے پتا لگتا ہے کہ یہ طاعون آنے کی وجہ انان کی نافرمانی اور بدکاری سے علاقہ رکھتی ہے کونکہ سنت اللہ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ معصیت کے وقت اسی بیماری سے ہلاک ہوئے۔ یہ خدا تعالیٰ کا ایک قہری نشان ہے۔ جیسا میں نے پہلے بیان کیا کہ یہ تیسرا قیامت کا نشان ہے اس سے قیامتِ صغری پیدا ہوتی ہے۔ شاید وہ لوگ جن کو خبر نہیں اس کو افسانہ سمجھیں کہ یورپ اور بلا دشام اور عراق عجم ؟ نجم میں تو گویا اس کا ڈیرا جم گیا تھا۔ ابھی یہاں نیا مسافر ہے اس لئے لوگوں کو اس کے اخلاق اور عادات کی خبر