ملفوظات (جلد 1) — Page 222
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۲۲ جلد اول سچی راحت اسی میں ہے۔ یہ ایک یقینی امر ہے کہ کوئی بدکاری اور گناہ کا کام ایک لحظہ کے لئے بھی سچی خوشی نہیں دے سکتا۔ بدکار، بدمعاش کو تو ہر دم اظہار راز کا خطرہ لگا ہوا ہے۔ پھر وہ اپنی بدعملیوں میں راحت کا سامان کہاں دیکھے گا ۔ آخرت پر نظر رکھنے والے ہمیشہ مبارک ہیں۔ ع مرد آخر ہیں مبارک بندہ ایست دیکھو ان قوموں کا حال جن پر وقتاً فوقتاً عذاب آئے ہر ایک کو یہی لازم ہے کہ اگر دل سخت بھی ہو تو اسے ملامت کر کے خشوع خضوع کا سبق دے۔ رونا اگر نہیں آتا تو رونی صورت بنا وے پھر خود بخود آنسو بھی نکل آئیں گے۔ اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کریں ہے ہے کہ وہ اپنے اندر پاک تبدیلی کریں کیونکہ ان کو تو تازہ معرفت ملتی ہے اور اگر معرفت کا دعویٰ کر کے کوئی اس پر نہ چلے تو یہ نری لاف گزاف ہی ہے۔ پس ہماری جماعت کو دوسروں کی سستی غافل نہ کر دے اور اس کو کاہلی کی جرات نہ دلاوے۔ وہ ان کی محبت سرد دیکھ کر خود بھی دل سخت نہ کرلے ۔ انسان بہت آرزوئیں و تمنائیں رکھتا ہے مگر غیب کی قضاء وقدر کی کس کو خبر ہے۔ زندگی آرزؤں کے موافق نہیں چلتی ۔ تمناؤں کا سلسلہ اور ہے۔ قضاء و قدر کا سلسلہ اور ہے۔ اور وہی سچا سلسلہ ہے۔ خدا کے پاس انسان کے سوانح سچے ہیں۔ اسے کیا معلوم ہے اس میں کیا لکھا ہے۔ اس لئے دل کو جگا جگا کر غور کرنا چاہیے۔ توحید کی ایک قسم یہ بھی ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت میں اپنے نفس کے اغراض کو توحید کا ایک پہلو بھی درمیان سے اٹھا دے اور اپنے وجود کواس کی عظمت میں محو کرے۔ اے او الحکم جلد ۲ نمبر ۳ مورخه ۱۳ مارچ ۱۸۹۸ صفحه ۱