ملفوظات (جلد 1) — Page 213
ملفوظات حضرت مسیح موعود له الله جلد اول اپنے فضل و کرم سے ہماری دستگیری فرماتا ہے اور اپنی پاک کتاب کے حقائق اور معارف سے اطلاع دیتا ہے۔ حکماء کہتے ہیں کہ جس قوت کو چالیس دن استعمال نہ کیا جائے وہ بے کار ہو جاتی ہے۔ ہمارے ایک ماموں صاحب تھے وہ پاگل ہو گئے ۔ ان کی فصد لی گئی اور ان کو تاکید کی گئی کہ ہاتھ نہ ہلائیں۔ انہوں نے چند مہینے تک ہاتھ نہ ہلایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہاتھ لکڑی کی طرح ہو گیا۔ غرض یہ ہے کہ جس عضو سے کام نہ لیا جائے وہ بے کار ہو جاتا ہے۔ ہندوؤں میں جوگی اور ایسا ہی راہب وغیرہ جو عورتوں کے قابل نہیں رہتے اس کے دو ہی سبب ہوتے ہیں یا تو بد معاشیوں کی کثرت کی وجہ سے یا انقطاع کلی کے بعد اور اس امر کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ جن اعضاء کو بے کا رچھوڑا گیا وہ آخر بالکل نکھے ہو گئے ۔ اس وقت جو ہم پر قلم کی تا جو ہم پر قلم کی تلواریں چلائی جاتی ہیں اور اعتراضوں کے تیروں کی بوچھاڑ ہورہی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ اپنی قوتوں کو بے کار نہ کریں اور خدا کے پاک دین اور اس کے برگزیدہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات کے لئے اپنے قلموں کے نیزوں کو تیز کریں ۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑھ کر ہم کو یہ موقع دیا کہ اس نے سلطنت انگریزی میں ہم کو پیدا کیا۔ محسن کے احسانات کی شکر گزاری کے احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے اصول سے نا واقف بابل کمار کے اس قسم کے بیانات اور تحریروں کو خوشامد کہتے ہیں مگر ہمارا خدا بہتر جانتا ہے کہ ہم دنیا میں کسی انسان کی خوشامد کر سکتے ہی نہیں ۔ یہ قوت ہی ہم میں نہیں ہے۔ ہاں احسان کی قدر کرنا ہماری سرشت میں ہے اور محسن کشی اور غداری کا نا پاک مادہ اس نے اپنے فضل سے ہم میں نہیں رکھا ۔ ہم گورنمنٹ انگلشیہ کے احسانات کی قدر کرتے ہیں اور اس کو خدا کا فضل سمجھتے ہیں کہ اس نے ایک عادل گورنمنٹ کو سکھوں کے پر جفا زمانہ سے نجات دلانے کے لئے ہم پر حکومت کرنے کو کئی ہزار کوس سے بھیج دیا۔ اگر اس سلطنت کا وجود نہ ہوتا تو میں سچ کہتا ہوں کہ ہم اس قسم کے اعتراضوں کی بابت ذرا بھی سوچ نہ سکتے چہ جائیکہ ہم ان کا جواب دے سکتے ۔