ملفوظات (جلد 1) — Page 207
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۷ جلد اول عظمت اور اس سے محبت پیدا ہوتی جاتی ہے۔ اور انسان کو قضاء وقدر کے نیچے رہنے کی اس لئے تعلیم دیتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل اور بھروسہ کی صفت پیدا ہو اور وہ راضی بہ رضا ر ہنے کی حقیقت سے آشنا ہو کر وہ سچی سکینت اور اطمینان جو نجات کا اصل مقصد اور منشا ہے حاصل کرے۔ ابھی جو مثال میں نے قرآن شریف سے قسم کے متعلق دی ہے کہ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ یعنی قسم ہے آسمان کی جس میں اللہ تعالیٰ نے رجیع کو رکھا ہے۔ سماء کا لفظ فضا اور جو اور بارش اور بلندی کے معنوں میں بولا جاتا ہے۔ رجع بار بار وقت پر آنے والی چیز کو کہتے ہیں۔ بارش برسات میں بار بار آتی ہے اس لئے اس کا نام بھی رجع ہے۔ اسی طرح پر آسمانی بارش بھی اپنے وقتوں پر آتی ہے۔ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ ( الطارق : ۱۳) اور قسم ہے زمین کی کہ وہ ان وقتوں میں پھوٹ نکلتی ہے اور سبزہ نکالتی ہے۔ بارش کی جڑ زمین ہے۔ زمین کا پانی جو بخارات بن کر او پر اڑ جاتا ہے وہ گرہ زمهریر میں پہنچ کر بارش بن کر واپس آتا ہے اور اس صورت میں چونکہ وہ آسمان سے آتا ہے اس لئے آسمانی کہلاتا ہے۔ پھر بارش کی ضرورت کے لئے ایک اور وقت خاص ہے جب مزارعین کو ضرورت ہوتی ہے۔ اگر بیائی کے بعد پڑے تو کچھ بھی نہ رہے اور پھر بعض اوقات نشو و نما کے لئے ضرورت ہوتی ہے۔ غرض بارش اور مینہ کی ضرورت اور اس کے مفاد اور اس کے آسمان سے آنے کا نظارہ بالکل بد یہی ہے اور ایک ادنی درجہ کی عقل رکھنے والا گنوار دہقان بھی جانتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات بھی یادرکھنے کے قابل ہے کہ اگر آسمانی بارش نہ ہو تو زمینی پانی بھی خشک ہونے لگتے ہیں چنانچہ امساک باراں کے دنوں میں بہت سے کنویں خشک ہو جاتے ہیں اور اکثروں میں پانی بہت ہی کم رہ جاتا ہے لیکن جب آسمان سے بارش آتی ہے تو زمینی پانیوں میں بھی ایک جوش اور تموّج پیدا ہونے لگتا ہے۔ میرا مطلب اس مقام پر اس مثال کے بیان کرنے سے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان قسموں کو ایک اور امر کے لئے بطور شاہد قرار دیا ہے کیونکہ ان نظاروں سے تو ایک معمولی زمیندار بھی واقف ہی ہے اور وہ امر جو ان کے ذریعہ ثابت کیا ہے وہ یہ ہے إِنَّهُ لَقَولُ فَصْلٌ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ (الطارق: ۱۴، ۱۵) بے شک یہ خدا