ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 205 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 205

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۲۰۵ جلد اول کے لیے امور بد یہی کو بطور شواہد پیش کرتا ہے اور یہ پیش کرنا قسموں کے رنگ میں ہے۔ اس بات کو بھی ہرگز بھولنا نہ چاہیے کہ اللہ جل شانہ کی قسموں کو انسانی قسموں پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو اس کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو ایک ایسے گواہ رؤیت کا قائم مقام ٹھہر اوے کہ جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے کیونکہ اگر سوچ کر دیکھا جاوے تو قسم کا اصل مفہوم جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا تھا شہادت ہی ہوتا ہے۔ جب انسان معمولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آجاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتا ہے تااس سے وہ فائدہ اٹھاوے جو ایک شاہد رؤیت کی شہادت سے اٹھانا چاہتا ہے لیکن ایسا تجویز کرنا یا اعتقاد رکھنا کہ بجز خدا تعالیٰ کے کوئی اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزا دہی یا کسی اور امر پر قادر ہے صریح کلمہ کفر ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام کتابوں میں انسان کو یہی ہدایت فرمائی ہے کہ غیر اللہ کی ہر گز قسم نہ کھاوے۔ اب اس بیان سے صاف معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا قسم کھانا کوئی اور رنگ اور شان رکھتا ہے اور غرض اس سے یہی ہے کہ تا صحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسرار دقیقہ کے حل و انکشاف کے لیے بطور شاہد پیش کرے اور چونکہ اس مدعا کو قسم سے ایک مناسبت تھی اور وہ یہ کہ جیسا ایک قسم کھانے والا جب مثلاً خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس واقعہ پر گواہ ہے۔ اسی طرح اور ٹھیک اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ کے بعض ظاہر در ظاہر افعال ، نہاں در نہاں اسرار اور افعال پر بطور گواہ ہیں اس لیے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جا بجا قرآن شریف میں پیش کیا اور یہ کہنا سراسر نادانی اور جہالت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ کی قسم کھائی کیونکہ اللہ تعالی در حقیقت اپنے افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی اور اس کے افعال اس کے غیر نہیں ہیں۔ مثلاً اس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس منشا سے ہے کہ جو کچھ اس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں