ملفوظات (جلد 1) — Page 198
ملفوظات حضرت مسیح موعود سلسلہ کی بھی ضرورت نہ رہتی۔ ۱۹۸ جلد اول لیکن یہ بات کہ انبیاء علیہم السلام اور خدا تعالیٰ کے مامورین کی مخالفت کا سبب ماموروں کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے اور ان کی تعلیم کی طرف عدم توجہی کیوں کی جاتی ہے؟ اس کا باعث زمانہ کی وہ حالت ہوتی ہے جو ان پاک وجودوں کی بعثت کا موجب ہوتی ہے۔ زمانہ میں فسق و فجور کا ایک دریا رواں ہوتا ہے اور ہر قسم کی بدکاریاں اور برائیاں خدا تعالیٰ سے بعد اور حرمان اس نیک عمدہ مادے کو اپنے نیچے دبا لیتا ہے۔ چونکہ بدکاریوں کے کمال کا ظہور ہوا ہوا ہوتا ہے اس لئے طبیعت کا یہ مادہ کہ وہ ہر کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے اس طرف رجوع کر گیا ہوتا ہے اور یہی وہ ستر ہوتا ہے کہ ابتداء انبیاء علیہم السلام اور ماموروں کی مخالفت اور ان کی تعلیم سے بے پروائی ظاہر کی جاتی ہے۔ آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ اس نیکی کے بروز اور کمال کی طرف توجہ ہو جاتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ الْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ (الزخرف : ٣٦) غرض انسانی فطرت میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ وہ ہر کمال کی پیروی ظاہری نفاست کا اثر کرنا چاہتی ہے۔ دیکھ لو انگریزوں کی نئی ایجادات ہوئے، چاقو وغیرہ تک کی کس قدر عزت کی جاتی ہے اور دیسی اشیاء کے مقابلہ میں ان کو کس قدر پسند کیا جاتا ہے حالانکہ ان میں بعض اشیاء نہیں بلکہ اکثر ملمع کی ہوئی ہوتی ہیں مگر ظاہری چمک دمک ایسی ہوتی ہے کہ آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے اور اس کی روشنی ایک کشش کے ساتھ اپنی طرف متوجہ کرا لیتی ہے۔ تم نہیں دیکھتے کہ یہ جھوٹے زیور جو ملمع کیے ہوئے بکتے ہیں ان کی تجارت کیسی سرعت کے ساتھ بڑھ رہی ہے ۔ اصلی اشیاء کے مقابلہ میں ان کو رکھ کر دیکھو گے تو معلوم ہوگا کہ اصلی نقلی معلوم ہوتا ہے اور نقلی اصلی ۔ ان اشیاء کی ظاہری چمک دمک میں ایک روشنی ہے جو ہمارے دیسی صناع اس کو دکھا نہیں سکتے اس لئے باوجود یکہ لوگ صاف جانتے ہیں کہ یہ اشیاء ملمع شدہ ہیں لیکن اس دجل کی کچھ بھی پروا نہیں کرتے ۔ ہر ایک چیز ان کی دیکھو۔ دیسی کپڑے، دیسی جوتے جنٹلمین تعلیم من تعلیم یافته ۔