ملفوظات (جلد 1) — Page 196
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۹۶ جلد اول سکتی جب تک کہ وہ عدم یا مشابه بالعدم نہ ہو کیونکہ ربوبیت اسی کو چاہتی ہے۔ اس وقت تک وہ روحانی دودھ سے پرورش نہیں پاسکتا۔ کھو میں کھانے پینے کی تمام لذتیں شامل ہیں ۔ ان کا انجام دیکھو کہ بجز کثافت کے اور کیا ہے۔ زینت، سواری، عمدہ مکانات پر فخر کرنا یا حکومت و خاندان پر فخر کرنا یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ بالآخر اس سے ایک قسم کی حقارت پیدا ہو جاتی ہے جو رنج دیتی اور طبیعت کو افسردہ اور بے چین کرد کر دیتی ۔ ہے۔ لعب میں عورتوں کی محبت بھی شامل ہے۔ انسان عورت کے پاس جاتا ہے مگر تھوڑی دیر ۔ کے بعد وہ محبت اور لذت کثافت سے بدل جاتی ہے لیکن اگر یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک حقیقی عشق ہونے کے بعد ہو تو پھر راحت پر راحت اور لذت پر لذت ملتی ہے۔ یہاں تک کہ معرفت حقہ کے دروازے کھل جاتے ہیں اور وہ ایک ابدی اور غیر فانی راحت میں داخل ہو جاتا ہے جہاں پاکیزگی اور طہارت کے سوا کچھ نہیں ۔ وہ خدا میں لذت ہے۔ اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اسے ہی پاؤ کہ لو حقیقی لذت وہی ہے ۔ لے حضرت اقدس کی ایک تقریر فرموده ۳۱ جنوری ۱۸۹۸ء ( بعد نماز فجر ) یاد رکھو کہ فضائل بھی امراض متعدیہ کی انسان بالطبع کمال کی پیروی کرنا چاہتا ہے طرح متعدی ہونے ضروری ہیں۔ مومن کے لئے حکم ہے کہ وہ اپنے اخلاق کو اس درجہ پر پہنچائے کہ وہ متعدی ہو جائیں ۔ کیونکہ کوئی عمدہ سے عمدہ بات قابل پذیرائی اور واجب التعمیل نہیں ہو سکتی جب تک اس کے اندر ایک چمک اور جذب نہ ہو۔ اس کی درخشانی دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے اور جذب ان کو کھینچ لاتا ہے اور پھر اس فعل الحکم جلد ۳ نمبر ۲۲ مورخه ۲۳ جون ۱۸۹۹ صفحه ۱