ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 172

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۲ جلد اول ہوتا ہے اور جب حیوانی زندگی بسر کرتا ہے اس وقت اتارہ کے نیچے ہوتا ہے اور مجاہدہ کی حالت سے نکل کر جب غالب آجاتا ہے تو مطمئنہ کی حالت میں ہوتا ہے۔ متقی نفس اتارہ کی حالت سے نکل کر آتا ہے اور لوامہ کے نیچے ہوتا ہے ۔ اسی لئے مشقی کی شان میں آیا ہے کہ وہ نماز کو کھڑی کرتے ہیں ۔ گویا اس میں بھی ایک قسم کی لڑائی ہی کی حالت ہوتی ہے۔ وساوس اور اوہام آ آ کر حیران کرتے ہیں مگر وہ گھبرا تا نہیں اور یہ وساوس اُس کو درماندہ نہیں کر سکتے ۔ وہ بار بار خدا تعالیٰ کی استعانت چاہتا ہے اور خدا کے حضور چلاتا اور روتا ہے یہاں تک کہ غالب آجاتا ہے۔ ایسا ہی مال کے خرچ کرنے میں بھی شیطان اس کو روکتا ہے اور اسراف اور انفاق فی سبیل اللہ کو یکساں دکھاتا ہے حالانکہ ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اسراف کرنے والا اپنے مال کو ضائع کرتا ہے مگر فی سبیل اللہ خرچ کرنے والا اس کو پھر پاتا ہے اور خرچ سے زیادہ پاتا ہے۔ اس لئے ہی مِمَّا رَزَقْتُهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرۃ: ۴) فرمایا ہے۔ صراط مستقیم بات یہ ہے کہ صلاح کی حالت میں انسان کو ضروری ہوتا ہے کہ ہر ایک قسم کے فساد سے خواہ وہ عقائد کے متعلق ہو یا اعمال کے متعلق پاک ہو۔ جیسے انسان کا بدن صلاحیت کی حالت اس وقت رکھتا ہے جبکہ سب اخلاط اعتدال کی حالت پر ہوں اور کوئی کم زیادہ نہ ہولیکن اگر کوئی ایک خلط بھی بڑھ جائے تو جسم بیمار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پر روح کی صلاحیت کا مدار بھی اعتدال پر ہے۔ اسی کا نام قرآن شریف کی اصطلاح میں صراط مستقیم ہے۔ صلاح کی حالت میں انسان محض خدا کا ہو جاتا ہے۔ جیسے ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حالت تھی۔ اور رفتہ رفتہ صالح انسان ترقی کرتا ہوا مطمئنہ کے مقام پر پہنچ جاتا ہے اور یہاں ہی اس کا انشراح صدر ہوتا ہے۔ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرمایا اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ (الم نشرح : ۲) ہم انشراح صدر کی کیفیت کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے ۔ یہ بات بحضور دل یا درکھو کہ جیسے بیت اللہ انسان کا سینہ بیت اللہ ہے اور دل حجر اسود میں حجرا سینہ بیت اللہ ہے اور دل حجر اسود ہی بات حضور و یا درکھ کہ جیسے بیت ال میں حجر اسود پڑا ہوا ہے اسی طرح قلب