ملفوظات (جلد 1) — Page 163
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۳ جلد اول مان لیا جاوے کہ ہمارے گناہ یسوع نے اُٹھا لئے ۔ اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ایسے اُصول کا انسان کبھی متقی نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ ہر ایک کام کو جس کی بنا تقویٰ کے اُصولوں پر ہو ضروری نہ سمجھے گا۔ یہ خوب یاد رکھو کہ پاک باطنی ہمیشہ اُصولوں ہی سے شروع ہوتی ہے ورنہ ع خبث نفس نگردد بسالها معلوم پھر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کفارہ کا مسئلہ ماننے والوں نے پاک باطنی کی عملی نظیریں کیا قائم کی ہیں؟ یورپ کی بداعمالیاں سب کو معلوم ہیں ۔ شراب جو اُم الجرائم اور ام الخبائث ہے اس کی یورپ میں اس قدر کثرت ہے کہ اُس کی نظیر کسی دوسرے ملک میں نہیں ملتی ۔ میں نے کسی اخبار میں پڑھا تھا کہ اگر لندن کی شراب کی دوکانوں کو ایک لائن میں رکھا جائے تو پچھتر میل تک چلی جاویں۔ جس حالت میں اُن کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ ہر ایک گناہ کی معافی کا سرٹیفکیٹ دیا گیا ہے اور جس قدر گناہ کوئی کرے وہ معاف ہیں ۔ اب سوچ کر عیسائی ہم کو جواب دیں کہ اس کا اثر کیا پڑے گا۔ اگر نعوذ باللہ ہمارا یہ اصول ہوتا تو ہم پر اس کا کتنا برا اثر پڑتا نفس امارہ تو سہارا ہی تلاش کرتا ہے جیسے شیعوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا سہارا لے لیا اور تقیہ کی آڑ میں جو کچھ کہہ لیں سو تھوڑا ہے۔ میں اس تقیہ اور امام حسین کے فدیہ کے اصول کی بنا پر دلیری سے کہتا ہوں کہ شیعوں میں متقی کم نکلیں گے۔ خلیفہ محمد حسن صاحب نے لکھا ہے کہ فَدَيْنَهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (الصافات: ۱۰۸) سے جو قرآن میں آیا ہے امام حسین کا شہید ہونا نکلتا ہے اور اس نکتہ پر بہت خوش ہوئے ہیں کہ گویا قرآن شریف کے مغز کو پہنچ گئے ہیں۔ اُن کی اس نکتہ دانی پر مجھے ایک پوستی کی حکایت یاد آئی۔ وہ یہ ہے کہ ایک پوستی کے پاس ایک لوٹا تھا اور اُس میں سوراخ تھا۔ جب رفع حاجت کو جاتا اس سے پیشتر کہ وہ فارغ ہو کر طہارت کرے سارا پانی لوٹے سے نکل جاتا تھا۔ آخر کئی دن کی سوچ اور فکر کے بعد اس نے یہ تجویز نکالی کہ پہلے طہارت ہی کر لیا کریں اور اپنی اس تجویز پر بہت ہی خوش ہوا ۔ اسی قسم کا نکتہ اور نسخہ ان کو ملا ہے جو فَدَينه بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (الصافات: ۱۰۸) سے امام حسین کی شہادت نکالتے ہیں۔ شیعہ لوگوں کی مسجدیں تک