ملفوظات (جلد 1) — Page 9
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۹ جلد اول ۲۵ دسمبر ۱۸۹۷ء حضرت اقدس کی پہلی تقریر بر موقع جلسه سالانه تقومی کی بابت نصیحت حضور نے فرمایا ۔ اپنی جماعت کی خیر خواہی کے لئے زیادہ ضروری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ تقویٰ کی بابت نصیحت کی جاوے کیونکہ یہ بات عقلمند کے نزدیک ظاہر ہے کہ بجزر تقویٰ کے اور کسی بات سے اللہ تعالیٰ راضی نہیں ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَ الَّذِينَ هُمْ مُّحْسِنُونَ ۔ (النحل : ۱۲۹) ہماری جماعت کے لئے خاص کر تقویٰ کی ضرورت ہے۔ خصوصاً اس خیال سے بھی کہ وہ ایک ایسے شخص سے تعلق رکھتے ہیں اور اس کے سلسلۂ بیعت میں ہیں جس کا دعوی ماموریت کا ہے تا وہ لوگ جو خواہ کسی قسم کے بغضوں ، کینوں یا مشرکوں میں مبتلا تھے یا کیسے ہی روبہ دنیا تھے ان تمام آفات سے نجات پاویں۔ آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی بیمار ہو جاوے خواہ اس کی بیماری چھوٹی ہو یا بڑی اگر اس بیماری کے لئے دوا نہ کی جاوے اور علاج کے لئے دکھ نہ اٹھا یا جاوے بیمار ا چھا نہیں ہو سکتا۔ ایک سیاہ داغ منہ پر نکل کر ایک بڑا فکر پیدا کر دیتا ہے کہ کہیں یہ داغ بڑھتا بڑھتا کل منہ کو کالا نہ کر دے۔اسی طرح معصیت کا بھی ایک سیاہ داغ دل پر ہوتا ہے۔ صغائر سہل انگاری سے کبائر ہو جاتے ہیں۔ صغائر وہی داغ چھوٹا ہے جو بڑھ کر آخر کار کل منہ کو سیاہ کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جیسے رحیم و کریم ہے ویسا ہی قہار اور منتقم بھی ہے۔ ایک جماعت کو جب دیکھتا ہے کہ ان کا دعوئی اور لاف و گزاف تو بہت کچھ ہے اور ان کی عملی حالت ایسی نہیں تو اس کا غیظ و غضب بڑھ جاتا