ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 161

ملفوظات حضرت مسیح موعود ١٦١ جلد اول حقیر مت سمجھو اور ان لوگوں کو قابلِ رحم سمجھو جنھوں نے تعصب کی وجہ سے حق کا انکار کر دیا اور کہہ دیا کہ امن کے زمانہ میں کسی کے آنے کی کیا ضرورت ہے۔ افسوس اُن پر ! وہ نہیں دیکھتے کہ اسلام کس طرح دشمنوں کے نرغہ میں پھنسا ہوا ہے۔ چاروں طرف سے اُس پر حملہ پر حملہ ہو رہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی جاتی ہے۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ کسی کی ضرورت نہیں ۔ قانون سڈیشن سے اسلام ہی فائدہ اُٹھا سکتا ہے قانون سڈیشن ہمارے لئے بہت مفید ہے۔ صرف ہم ہی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دوسرے مذہبوں کو ہلاک کرنے کے لئے یہ بھی ایک ذریعہ ہوگا کیونکہ ہمارے پاس تو حقائق اور معارف کے خزانے ہیں ۔ ہم ان کا ایک ایسا سلسلہ جاری رکھیں گے جو کبھی ختم ختم نہ ہوگا مگر آریہ یا پادری کون سے معارف پیش کریں گے ۔ پادریوں نے گذشتہ پچاس سال کے اندر کیا دکھایا ہے۔ کیا گالیوں کے سوا وہ اور کچھ پیش کر سکتے ہیں جو آئندہ کریں گے۔ ہندوؤں کے ہاتھوں میں بھی اعتراضوں کے سوا اور کچھ نہیں ہے ہم دعوئی سے کہتے ہیں کہ اگر کسی آریہ یا پادری کو اپنے مذہب کے کمالات اور خوبیاں بیان کرنے کے لئے بلایا جائے تو وہ ہمارے مقابلہ میں ایک ساعت بھی نہ ٹھہر سکے ۔ کفاره مذہب کی اول اینٹ خدا شناسی ہے۔ جب تک وہ درست نہ ہو دوسرے اعمال کیوں کر پاک ہو سکتے ہیں۔ عیسائی دوسروں کی پاک باطنی پر بڑے اعتراض کیا کرتے ہیں اور کفارہ کا اخلاق سوز مسئلہ مان کر اعتراض کرتے ہیں ۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جب کفارہ کا عقیدہ ہو تو اللہ تعالیٰ کے مواخذہ کا خوف رہ کیوں کر سکتا ہے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارے گنا ہوں کے بدلے مسیح پر سب کچھ وارد ہو گیا۔ یہاں تک کہ اسے ملعون قرار دیا اور تین دن ھاویہ میں رکھا ۔ ایسی حالت میں اگر گناہوں کے بدلے سزا ہو تو پھر کفارہ کا کیا فائدہ ہوا؟ اصول کفارہ ہی چاہتا ہے الحکم جلد ۵ نمبر ۲۶ مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۱ء صفحہ ۱، ۲