ملفوظات (جلد 1) — Page 158
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۸ جلد اول اور توبہ کے ساتھ گر جاؤ کیونکہ یہی استقامت ہے۔ اس وقت دعا میں قبولیت ، نماز میں لذت پیدا ہو گی ۔ ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۱۹ جنوری ۱۸۹۸ء (بعد نماز مغرب) فرمایا۔ عیسائیوں کا فتنہ اُم الفتن ہے اس لیے چودھویں صدی کے مجدد کا کام چودھویں صدی کے مجدد کا کام یکسر الصلیب ہے۔ پھر جو علامت اُس پر صادق آئی اس لئے چودھویں صدی کا مجد د مسیح موعود قرار پایا کیونکہ احادیث سے مسیح موعود کا کام يَكْسِرُ الصَّليب ثابت ہوتا ہے۔ اب جب کہ ہمارے مخالفوں کو بھی ماننا پڑتا ہے کہ چودھویں صدی کے مجدد کا کام يَكْسِرُ الصَّليب ہی ہونا چاہیے کیونکہ اس کے سامنے یہی مصیبت ہے پھر انکار کے لئے کون سی گنجائش ہے کہ مسیح موعود چودھویں صدی کا مجد رہی ہوگا۔ ہماری تو جہان لوگوں کی طرف ہے جن کو حق کی پیاس ہے لیکن جو حق کی تلاش ہی نہیں چاہتے ، جن کی طبیعتیں معکوس ہیں وہ ہم سے کیا فائدہ اُٹھا سکتے ہیں؟ یا درکھو ہدایت تو اُن کو ہوتی ہے جو تعصب سے کام نہیں لیتے ۔ وہ لوگ فائدہ نہیں اُٹھاتے جو تدبر نہیں کرتے ۔ پس طالب ہدایت سمجھ لے کہ موجودہ حالتوں میں چودھویں صدی کے مجدد کا یہ کام ہے کہ کسرِ صلیب کرے کیونکہ صلیبی فتنہ خطر ناک پھیلا ہوا ہے۔ اسلام ایسا دین تھا کہ اگر ایک بھی اس سے مرتد ہو جاتا تھا تو قیامت برپا ہو جاتی تھی لیکن اب کس قدر افسوس ہے کہ مرتد ہونے والوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی ہے اور وہ لوگ جو مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے تھے اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے کامل انسان کی نسبت جس کی پاک باطنی کی کوئی نظیر دنیا میں موجود نہیں قسم قسم کے دل آزار بہتان لگا رہے ہیں ۔ کروڑوں کتابیں اس سید المعصومین کی تکذیب میں اُس گروہ کی طرف سے شائع ہو چکی ہیں ۔ بہت سے مستقل ہفتہ وار اور ماہوار اخبار اور رسالے اس غرض کے لئے جاری کر رکھے ہیں۔ پھر کیا ایسی حالت میں خدا تعالیٰ کوئی لے حضرت اقدس کی ایک تحریر اور مسئلہ وحدة وجود پر ایک خط مرتبہ شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحه ۱۴ تا ۲۳ وو مجدد نه