ملفوظات (جلد 1) — Page 156
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۶ جلد اول - لیے ہر نماز میں درود شریف کا پڑھنا ضروری ہو گیا تا کہ اس دعا کی قبولیت کے لیے استقامت کا ایک ذریعہ ہاتھ آئے ۔ یہ ایک مانی ہوئی بات ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود ظلی طور پر قیامت تک رہتا ہے ۔ صوفی کہتے ہیں کہ مجددین کے اسماء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہی ہوتے ہیں۔ یعنی ظلی طور پر وہی نام ان کو کسی ایک رنگ میں دیا جاتا ہے۔ شیعہ لوگوں کا یہ خیال کہ ولایت کا سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ پر ختم ہو گیا محض غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کمالات سلسلہ نبوت میں رکھے ہیں، مجموعی طور پر وہ ہادی کامل پر ختم ہو چکے ۔ اب ظلی طور پر ہمیشہ کے لیے مجددین کے ذریعہ سے دنیا پر اپنا پر تو ہ ڈالتے رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اس سلسلہ کو قیامت تک رکھے گا۔ میں پھر کہتا ہوں کہ اس وقت بھی خدائے تعالیٰ نے دنیا کو محروم نہیں چھوڑا۔ اور ایک سلسلہ قائم کیا ہے۔ ہاں اپنے ہاتھ سے اس نے ایک بندہ کو کھڑا کیا اور وہ وہی ہے جو تم میں بیٹھا ہوا بول رہا ہے۔ اب خدا تعالیٰ کے نزول رحمت کا وقت ہے ۔ دعائیں مانگو ۔ استقامت چاہو اور درود شریف جو حصول استقامت کا ایک زبردست ذریعہ ہے بکثرت پڑھو ۔ مگر نہ رسم اور عادت کے طور پر بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حُسن اور احسان کو مد نظر رکھ کر اور آپ کے مدارج اور مراتب کی ترقی کے لئے اور آپ کی کامیابیوں کے واسطے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبولیت دعا کا شیریں اور لذیذ پھل تم کو ملے گا۔ قبولیت دعا کے ذرائع قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں ۔ اول - إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي (ال عمران : ۳۲) دوم - يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ( الاحزاب : ۵۷) تیسرا موهبت الہی ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عام قانون ہے کہ وہ نفوس انبیاء کی طرح دنیا میں بہت سے نفوس قدسیہ ایسے پیدا کرتا ہے جو فطرتا استقامت رکھتے ہیں ۔