ملفوظات (جلد 1) — Page 141
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۱ جلد اول کیا ہو سکتا ہے کہ مستقل اور ابدی لذت کے علاج نہ ہوں؟ ہیں اور ضرور ہیں مگر تلاش حق میں مستقل اور پو یہ قدم درکار ہیں۔ قرآن کریم میں ایک موقع پر اللہ تعالیٰ نے صالحین کی مثال عورتوں سے دی ہے۔ اس میں بھی ستر اور بھید ہے۔ ایمان لانے والوں کو مریم اور آسیہ سے مثال دی ہے یعنی خدا تعالی مشرکین میں سے مومنوں کو پیدا کرتا ہے۔ بہر حال عورتوں سے مثال دینے میں دراصل ایک لطیف راز کا اظہار ہے یعنی جس طرح عورت اور مرد کا باہم تعلق ہوتا ہے اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کا رشتہ ہے ۔ اگر عورت اور مرد کی باہم موافقت ہو اور ایک دوسرے پر فریفتہ ہو تو وہ جوڑا ایک مبارک اور مفید ہوتا ہے ورنہ نظام خانگی بگڑ جاتا ہے اور مقصود بالذات حاصل نہیں ہوتا ہے۔ مرد اور جگہ خراب ہو کر صد ہا قسم کی بیماریاں لے آتے ہیں ۔ آتشک سے مجذوم ہو کر دنیا میں ہی محروم ہو جاتے ہیں۔ اور اگر اولاد ہو بھی جاوے تو کئی پشت تک یہ سلسلہ برابر چلا جاتا ہے اور ادھر عورت بے حیائی کرتی پھرتی ہے اور عزت و آبرو کو ڈبو کر بھی سچی راحت حاصل نہیں کر سکتے ۔ غرض اس جوڑے سے الگ ہو کر کس قدر بد نتائج اور فتنے پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح پر انسان روحانی جوڑے سے الگ ہو کر مجذوم اور مخذول ہو جاتا ہے۔ دنیاوی جوڑے سے زیادہ رنج و مصائب کا نشانہ بنتا ہے۔ جیسا کہ عورت اور مرد کے جوڑے سے ایک قسم کی بقا کے لئے حظ ہے۔ اسی طرح پر عبودیت اور ربوبیت کے جوڑے میں ایک ابدی بقا کے لئے حظ موجود ہے۔ صوفی کہتے ہیں کہ جس کو یہ حظ نصیب ہو جاوے وہ دنیا اور مافیہا کے تمام حظوظ سے بڑھ کر ترجیح رکھتا ہے۔ اگر ساری عمر میں ایک بار بھی اس کو معلوم ہو جاوے تو اس میں ہی فنا ہو جاوے لیکن مشکل تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جنہوں نے اس راز کو نہیں سمجھا اور اُن کی نمازیں صرف ٹکریں ہیں اور اوپرے دل کے ساتھ ایک قسم کی قبض اور تنگی سے صرف نشست و برخاست کے طور پر ہوتی ہیں۔ مجھے اور بھی افسوس ہوتا ہے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ بعض لوگ صرف اس لئے نمازیں پڑھتے ہیں کہ وہ دنیا میں معتبر اور قابل عزت سمجھے جاویں اور پھر اس نماز سے یہ بات ان کو حاصل ہو جاتی ہے یعنی وہ نمازی اور پر ہیز گار کہلاتے ہیں۔ پھر اُن کو کیوں یہ کھا جانے والا غم نہیں لگتا کہ جب جھوٹ موٹ اور