ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 5 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 5

ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد اول کے ساتھ سچا تعلق نہ ہونے کی وجہ سے آخر بے ایمان رہے۔ ان کو سچی محبت اور اخلاص پیدا نہ ہوا اس لیے ظاہری لا اله الا الله ان کے کام نہ آیا تو ان تعلقات کو بڑھانا بڑا ضروری امر ہے ۔ اگر ان تعلقات کو وہ ( طالب ) نہیں بڑھاتا اور کوشش نہیں کرتا تو اس کا شکوہ اور افسوس بے فائدہ ہے ۔ محبت و اخلاص کا تعلق بڑھانا چاہیے ۔ جہاں تک ممکن ہو اس انسان ( مرشد ) کے ہم رنگ ہو ۔ طریقوں میں اور اعتقاد میں نفس لمبی عمر کے وعدے دیتا ہے۔ یہ دھو کہ - دھوکہ ہے۔ عمر کا اعتبار نہیں ہے۔ جلدی راستبازی اور عبادت کی طرف جھکنا چاہیے اور صبح سے لے کر شام تک حساب کرنا چاہیے ۔ اس زندگی کے کل انفاس اگر دنیاوی کاموں میں گزر گئے تو آخرت کے لئے کیا تہجد کی تاکید تاکید ذخیرہ کیا؟ تہجد میں خاص کر اٹھو اور ذوق اور شوق سے ادا کرو۔ درمیانی نمازوں میں یہ باعث ملازمت کے ابتلا آجاتا ہے۔ رازق اللہ تعالیٰ ہے۔ نماز اپنے وقت پر ادا کرنی چاہیے۔ ظہر و عصر کبھی کبھی جمع ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ضعیف لوگ ہوں گے اس لیے یہ گنجائش رکھ دی مگر یہ گنجائش تین نمازوں کے جمع کرنے میں نہیں ہو سکتی ۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھانا جبکہ ملازمت میں اور دوسرے کئی امور میں لوگ سزا پاتے ہیں (اور مورد عتاب حکام ہوتے ہیں ) تو اگر اللہ تعالیٰ کے لئے تکلیف اٹھاویں تو کیا خوب ہے۔ جو لوگ راستبازی کے لیے تکلیف اور نقصان اٹھاتے ہیں وہ لوگوں کی نظروں میں بھی مرغوب ہوتے ہیں اور یہ کام نبیوں اور صدیقوں کا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے دنیاوی نقصان کرتا ہے اللہ تعالیٰ کبھی اپنے ذمہ نہیں رکھتا پورا اجر دیتا ہے۔ لے مجھے یاد پڑتا ہے کہ یہ تقریر حضرت نے اس وقت فرمائی تھی جب محمد نواب خان صاحب تحصیلدار نے حضور سے بیعت کی تھی۔ (ایڈیٹر ) ( البدر جلد نمبر ۶،۵ مورخہ ۲۸ نومبر، ۱۵ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۷،۳۶)