ملفوظات (جلد 1) — Page 121
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۱ جلد اول ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے اصلی شہ زور کون ہے؟ مطلب نہیں بلکہ ایسی قوت رکھنےوالے مطلوب ہیں جو تبدیلی اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔ یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے ۔ نہیں نہیں ۔ اصل بہادر وہی ہے جو تبدیل اخلاق پر مقدرت پاوے ۔ پس یا د رکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیل اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے ۔ خلق عظیم بڑی بھاری اری کرامت ہے میں نے کل یا پرسوں بیان کیا تا کہ خلق عظیم بیری ت ہے بھاری کرامت ہے جو خارق عادت امور کی امور کو بھی مشتبہ کر سکتا ہے۔ مثلاً اگر آج شق القمر کا معجزہ ہو تو یہ ہیئت وطبعی کے ماہر اور سائنس کے دلدادہ فی الفور اس کو کسوف خسوف کے اقسام میں داخل کر کے اس کی عظمت کو کم کرنا چاہیں گے اور جو پرانا معجزہ اب پیش کرتے ہیں تو اسے قصہ قرار دیتے ہیں ۔ مثلاً یہی کسوف خسوف دیکھو جو رمضان میں ہوا اور جو آیات مہدی میں سے ایک سماوی نشان تھا۔ میں نے سنا ہے کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ تو علم ہیئت کی رو سے ثابت تھا کہ رمضان میں ایسا ہو۔ یہ کہہ کر گویا وہ اس حدیث کی جو امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف سے ہے وقعت کم کرنا چاہتے ہیں مگر یہ احمق اتنا نہیں سوچتے کہ نبوت ہر ایک شخص نہیں کر سکتا۔ نبوت پیشگوئی کرنے کو کہتے ہیں۔ یعنی ہر کس و ناکس کا یہ کام نہیں کہ وہ پیشگوئیاں کرتا پھرے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدعی مہدویت و مسیحیت کے زمانہ میں یہ کسوف خسوف رمضان میں ہوگا اور ابتدائے آفرینش سے آج تک کبھی نہیں ہوا۔ پس اگر عقلی طور پر کسی قسم کا اشتباہ ہو تو ایسے مخالفوں کو چاہیے کہ وہ تاریخی طور پر اس پیشگوئی کی عظمت کو کم کر دکھا ئیں ۔ یعنی کسی ایسے وقت کا پتا دیں جبکہ رمضان میں کسوف خسوف اس طور پر ہو کہ پہلے کسی مدعی نے دعوی بھی کیا ہو اور جس امر کا دعویٰ کیا ہو اس امر کے ثبوت میں رمضان کے کسوف خسوف کی پہلے کسی نبی کے زمانہ میں پیشگوئی بھی کی گئی ہو مگر یہ ممکن نہیں کہ کوئی دکھلا سکے۔ میری غرض اس واقعہ کے بیان سے صرف یہ تھی کہ خوارق پر تو کسی نہ کسی رنگ میں لوگ عذرات