ملفوظات (جلد 1) — Page 119
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۹ جلد اول اندر اطلاع کرائی ۔ افلاطون کا قاعدہ تھا کہ جب تک وہ آنے والے کا حلیہ اور نقوش چہرہ کو معلوم نہ کر لیتا تھا اندر نہیں آنے دیتا تھا۔ اور وہ قیافہ سے استنباط کر لیتا تھا کہ شخص مذکور کیسا ہے کیسا نہیں ۔ نوکر نے آ کر اس شخص کا حلیہ حسب معمول بتلایا۔ افلاطون نے جواب دیا کہ اس شخص کو کہہ دو کہ چونکہ تم میں اخلاق رذیلہ بہت ہیں میں ملنا نہیں چاہتا ۔ اس آدمی نے جب افلاطون کا یہ جواب سنا تو نوکر سے کہا کہ تم جا کر کہہ دو کہ جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ٹھیک ہے مگر میں نے اپنی عادات رذیلہ کا قلع و قمع کر کے اصلاح کر لی ہے۔ اس پر افلاطون نے کہا۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے۔ چنانچہ اس کو اندر بلایا اور نہایت عزت واحترام کے ساتھ اس سے ملاقات کی ۔ جن حکماء کا یہ خیال ہے کہ تبدیل اخلاق ممکن نہیں وہ غلطی پر ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بعض ملازمت پیشہ لوگ جو رشوت لیتے ہیں جب وہ سچی توبہ کر دیتے ہیں پھر اگر ان کو کوئی سونے کا پہاڑ بھی دے تو اس پر نگاہ بھی نہیں کرتے ۔ تو بہ در اصل حصول اخلاق کے لئے بڑی محرک اور مؤید چیز ہے اور تو بہ کے تین شرائط انسان کو کامل بنادیتی ہے۔ یعنی جو شخص اپنے اخلاق سیہ کی تبدیلی چاہتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ سچے دل اور پکے ارادے کے ساتھ تو بہ کرے ۔ یہ بات بھی یا د رکھنی چاہیے کہ توبہ کے لئے تین شرائط ہیں۔ بدوں ان کی تکمیل کے سچی تو بہ جسے تو بۃ النصوح کہتے ہیں حاصل نہیں ہوتی ۔ ان ہر سہ شرائط میں سے پہلی شرط جسے عربی زبان میں اقلاع کہتے ہیں۔ یعنی ان خیالات فاسدہ کو دور کر دیا جاوے جوان خصائل ردیہ کے محرک ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ تصورات کا بڑا بھاری اثر پڑتا ہے کیونکہ حیطہ عمل میں آنے سے پیشتر ہر ایک فعل ایک تصوری صورت رکھتا ہے۔ پس تو بہ کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ ان خیالات فاسد و تصورات بد کو چھوڑ دے۔ مثلاً اگر ایک شخص کسی عورت سے کوئی ناجائز تعلق رکھتا ہو تو اسے تو بہ کرنے کے لئے پہلے ضروری ہے کہ اس کی شکل کو بدصورت قرار دے اور اس کی تمام خصائل رذیلہ کو اپنے دل میں مستحضر کرے۔ کیونکہ جیسا میں نے ابھی کہا ہے تصورات کا اثر بہت زبردست اثر ہے اور میں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے