ملفوظات (جلد 1) — Page 115
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۵ جلد اول وقت آتا ہے کہ تیر و تلوار کے میدان میں بڑھ کر شجاعت دکھاتے ہیں۔ سخاوت پر آتے ہیں تو سونے کے پہاڑ بخشتے ہیں۔ حلم میں اپنی شان دکھاتے ہیں تو واجب القتل کو چھوڑ دیتے ہیں۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بے نظیر اور کامل نمونہ ہے جو خدائے تعالیٰ نے دکھا دیا ہے۔ اس کی مثال ایک بڑے عظیم الشان درخت کی ہے جس کے سایہ میں بیٹھ کر انسان اس کے ہر جزو سے اپنی ضرورتوں کو پورا کرلے۔ اس کا پھل ، اس کا پھول اور اس کی چھال ، اس کے پتے غرض کہ ہر چیز مفید ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس عظیم الشان درخت کی مثال ہیں جس کا سایہ ایسا ہے کروڑ ہا مخلوق اس میں مرغی کے پروں کی طرح آرام اور پناہ لیتی ہے۔ لڑائی میں سب سے بہادر وہ سمجھا جاتا تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا تھا کیونکہ آپ بڑے خطرناک مقام میں ہوتے تھے۔ سبحان اللہ ! کیا شان ہے۔ اُحد میں دیکھو کہ تلواروں پر تلواریں پڑتی ہیں ۔ ایسی گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے کہ صحابہؓ برداشت نہیں کر سکتے مگر یہ مرد میدان سینہ سپر ہوکر لڑ رہا ہے۔ اس میں صحابہؓ کا قصور نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا بلکہ اس میں بھید یہ تھا کہ تا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شجاعت کا نمونہ دکھایا جاوے۔ ایک موقع پر تلوار پر تلوار پڑتی تھی اور آپ نبوت کا دعویٰ کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ میں ہوں۔ کہتے ہیں حضرت کی پیشانی پرستر زخم لگے۔ مگر زخم خفیف تھے۔ یہ خلق عظیم تھا۔ ایک وقت آتا ہے کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکریاں تھیں کہ قیصر و کسری کے پاس بھی نہ ہوں۔ قدر آپ نے وہ سب ایک سائل کو بخش دیں۔ اب اگر پاس نہ ہوتا تو کیا بخشتے ۔ اگر حکومت کا رنگ نہ ہوتا تو یہ کیونکر ثابت ہوتا کہ آپ واجب القتل کفار مکہ کو با وجود مقدرت انتقام کے بخش سکتے ہیں۔ جنہوں نے صحابہ کرام اور خود حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور مسلمان عورتوں کو سخت سے سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی تھیں۔ جب وہ سامنے آئے تو آپ نے فرما یالا تثريب عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ (یوسف:۹۳) میں نے آج تم کو بخش دیا۔ اگر ایسا موقع نہ ملتا تو ایسے اخلاق فاضلہ حضور کے کیونکر ظاہر ہوتے ۔ یہ شان آپ کی اور صرف آپ کی ہی تھی۔ کوئی ایسا خلق بتلاؤ جو آپ میں نہ ہو اور پھر بدرجہ ء غایت کامل طور پر نہ ہو۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی زندگی کو دیکھ کر کہنا پڑتا ہے کہ اُن کے اخلاق بالکل مخفی ہی رہے۔ شریر یہود