ملفوظات (جلد 1) — Page 112
ملفوظات حضرت مسیح موعود الله جلد اول مانگنا انسان کا خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالی کا مانگنا انسان کا خاصہ ہے اور استجابت اللہ تعالیٰ کا۔ جو نہیں سمجھتا اور نہیں مانتا وہ جھوٹا ہے۔ بچہ کی مثال جو میں نے بیان کی ہے وہ دعا کی فلاسفی خوب حل کر کے دکھاتی ہے۔ رحمانیت اور رحیمیت دو نہیں ہیں۔ پس جو ایک کو چھوڑ کر دوسری کو چاہتا ہے اسے مل نہیں سکتا۔ رحمانیت کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ ہم میں رحیمیت سے فیض اٹھانے کی سکت پیدا کرے جو ایسا نہیں کرتا وہ کافر نعمت ہے۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ کے یہی معنی ہیں کہ ہم تیری عبادت کرتے ہیں ان ظاہری سامانوں اور اسباب کی رعایت سے جو تو نے عطا کئے ہیں ۔ دیکھو یہ زبان جو عروق اور اعصاب اعصاب سے خلق کی ہے اگر ایسی نہ ہوتی تو ہم بول نہ سکتے ۔ ایسی زبان دعا کے واسطے عطا کی جو قلب کے خیالات تک کو ظاہر کر سکے۔ اگر ہم دعا کا کام زبان سے کبھی نہ لیں تو یہ ہماری شور بختی ہے۔ بہت سی بیماریاں ایسی ہیں کہ اگر وہ زبان کو لگ جاویں تو یک دفعہ ہی زبان اپنا کام چھوڑ بیٹھتی ہے یہاں تک کہ انسان گونگا ہو جاتا ہے۔ پس یہ کیسی رحیمیت ہے کہ ہم کو زبان دے رکھی ہے۔ ایسا ہی کانوں کی بناوٹ میں فرق آجاوے تو خاک بھی سنائی نہ دے۔ ایسا ہی قلب کا حال ہے ۔ وہ جو خشوع و خضوع کی حالت رکھی ہے اور سوچنے اور تفکر کی قوتیں رکھی ہیں اگر بیماری آجاوے تو وہ سب قریباً بیکار ہو جاتی ہیں۔ مجنونوں کو دیکھو کہ ان کے قومی کیسے بیکار ہو جاتے ہیں۔ تو پس کیا یہ ہم کو لازم نہیں کہ ان خدا داد نعمتوں کی قدر کریں ؟ اگر ان قومی کو جو اللہ تعالیٰ نے اپنے کمال فضل سے ہم کو عطا کئے ہیں بیکار چھوڑ دیں تو لاریب ہم کا فرنعمت ہیں ۔ پس یا د رکھو کہ اگر اپنی قوتوں اور طاقتوں کو معطل چھوڑ کر دعا کرتے ہیں تو یہ دعا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتی کیونکہ جب ہم نے پہلے عطیہ ہی سے کچھ کام نہیں لیا تو دوسرے کو کب اپنے لئے مفید اور کارآمد بناسکیں گے۔ پس إِيَّاكَ بتلا سچی بصیرت مانگنے کی ہدایت میں ایاک نعبید یہ چلا رہا ہے کہ اے رب العالمین ! تیرے پہلے عطیہ کو بھی ہم نے بیکار اور برباد نہیں کیا۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ انسان خدائے تعالیٰ سے سچی بصیرت مانگے ۔