ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 109

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۹ جلد اول کام دیا جاتا ہے تو وہ مشکل قابل رحم ہوتی ہے۔ شرارتوں میں تجربہ کار ، بداندیش خطا کاروں سے مقابلہ ٹھہرا اور پھر اُٹھی جیسے حضرت نے فرمایا کہ ہم اُٹھی ہیں اور حساب نہیں جانتے پس اُمیوں کو شریر قوموں کا مقابلہ کرنا پڑا جو مکا ئد اور شرارتوں میں تجربہ کار تھے، اس لئے اس کا نام اُمت مرحومہ رکھا۔ مسلمانوں کو کس قدر خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو قابل رحم سمجھا۔ پہلے واعظ انبیاء ایسے وقتوں میں آتے تھے کہ لوگ مکائد سے واقف نہ ہوتے تھے اور بعض اپنی ہی قوم میں آتے تھے لیکن اب لوگ مکائد اور دنیا کے علوم و فنون اور فلسفہ و سائنس میں پکے ماہر ہیں اور راستبازوں کو اس جہان کے ظاہری علوم اور مادی عقلوں سے اور ان کے پیچ در پیچ منصوبوں اور داؤں سے بہت کم مناسبت ہے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ اے عیسی ! میں تیرے بعد ایک اُمت کو پیدا کرنے والا ہوں جو نہ عقل رکھے گی اور نہ علم یعنی اُٹھی ہوگی ۔ آپ نے عرض کی يَا رَبِّ كَيْفَ يَعْرِفُونَكَ؟ اے اللہ ! جبکہ وہ علم اور عقل سے بہرہ ور نہ ہوں گے تو تجھے کیونکر پہچانیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں اپنا علم اور عقل دوں گا۔ اس سے بڑی بشارت ملتی ہے۔ جیسے اہل اسلام کو سماوی علوم سے مناسبت ہے ہمارے مخالفوں کو ارضی علوم سے مناسبت وارضی سے ہے ایسے ہی اہل اسلام کو سماوی علوم سے ۔ ایک گنوار مسلمان کی سچی رؤیا اور خواہیں بڑے بڑے فلاسفروں ، بشپوں اور پنڈتوں کے خوابوں سے طاقت میں بڑھ کر ہیں ۔ ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ( الجمعة : ۵ ) پس مسلمانوں کو واجب ہے کہ اپنے اس محسن حقیقی کا شکر کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ (ابراهيم : ۸) یعنی اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں اپنی دی ہوئی نعمت کو زیادہ کروں گا اور بصورت کفر عذاب میرا سخت ہے۔ یا درکھو کہ جب اُمت کو امت مرحومہ قرار دیا ہے اور علوم لدنیہ سے اسے سرفرازی بخشی ہے تو عملی طور پر شکر واجب ہے۔ الغرض اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں تمام مسلمانوں کو لازم ہے کہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ کا لحاظ رکھیں کیونکہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ کو إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم رکھا ہے۔ پس پہلے عملی طور پر شکریہ کرنا چاہیے اور یہی مطلب اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں رکھا ہے یعنی دعا سے پہلے اسباب ظاہری کی