ملفوظات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 606

ملفوظات (جلد 1) — Page 102

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۲ جلد اول ایک مقام پر اہل اللہ سے ایسے افعال صادر ہوتے اسی طرح سے ہمارے تجربہ میں آیا ہے کہ اہل اللہ قرب الہی ہیں جو اپنے اندر الوہیت کے خواص رکھتے ہیں میں ایسے مقام تک جا پہنچتے ہیں جبکہ ربانی رنگ بشریت کے رنگ و بو کو تمام و کمال اپنے رنگ کے نیچے متواری کر لیتا ہے اور جس طرح آگ لوہے کو اپنے نیچے ایسا چھپا لیتی ہے کہ ظاہر میں بجز آگ کے اور کچھ نظر ہی نہیں آتا اور خلی طور پر وہ صفات الہیہ کا رنگ اپنے اندر پیدا کرتا ہے۔ اس وقت اس سے بدوں دعا و التماس ایسے افعال صادر ہوتے ہیں جو اپنے اندر الوہیت کے خواص رکھتے ہیں اور وہ ایسی باتیں منہ سے نکالتے ہیں جو جس طرح کہتے ہیں اسی طرح ہو جاتی ہیں۔ قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ اور زبان سے ایسے امور کے صدور کی بصراحت بحث ہے جیسا کہ مَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللهَ رَهْى (الانفال: ۱۸) اور ایسا ہی معجزہ شق القمر اور اسی طرح پر اکثر مریضوں اور سقیم الحال لوگوں کا اچھا کر دینا ثابت ہے۔ قرآن شریف میں جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ ارشاد ہوا کہ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوَى (النجم : ۴) یہ اس شدید اور اعلیٰ ترین قرب ہی کی طرف اشارہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمال تزکیہ نفس اور قرب الہی کی ایک دلیل ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ عبد مومن کے ہاتھ، پاؤں اور آنکھیں وغیرہ وغیرہ ہو جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تمام اعضاء الہی طاعت کے رنگ سے ایسے رنگین ہو جاتے ہیں کہ گویا وہ ایک الہی آلہ ہیں جن کے ذریعہ سے وقتاً فوقتاً افعال الہیہ ظہور پذیر ہوتے ہیں یا ایک مصفا آئینہ ہیں جس میں تمام مرضیات الہیہ بصفاء تام عکسی طور پر ظہور پکڑتی رہتی ہیں یا یہ کہو کہ وہ اس حالت میں اپنی انسانیت سے بکلی دستبردار ہو جاتے ہیں۔ جیسے جب انسان بولتا ہے تو اس کے دل میں خیال ہوتا ہے کہ لوگ اس کی فصاحت اور خوش بیانی اور قادر الکلامی کی تعریف کریں۔ مگر وہ لوگ جو خدا کے بلائے بولتے ہیں اور ان کی روح جب جوش مارتی ہے تب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ایک موج اس پر